ٹرمپ کا پاک بھارت جنگ سے متعلق نیا دعویٰ، 11 طیارے گرائے جانے کا ذکر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی 2025 میں ہونے والی فوجی جھڑپوں کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس دوران 11 طیارے گرائے گئے تھے۔ انہوں نے ایک بار پھر کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کے لیے انہوں نے تجارتی محصولات (ٹیرف) میں اضافے کی دھمکی دی تھی۔
فلوریڈا میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ دنیا بھر میں آٹھ تنازعات ختم کرانے میں کردار ادا کر چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں نوبیل امن انعام نہیں دیا گیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ان تنازعات میں سے پانچ کو تجارتی محصولات کے ذریعے روکنے میں مدد ملی۔
پاک بھارت جنگ رکوانے کے لیے ٹیرف کی دھمکی کا مؤقف
ٹرمپ کے مطابق انہوں نے پاکستان اور بھارت کو خبردار کیا تھا کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان لڑائی جاری رہی تو امریکا ان پر بھاری تجارتی محصولات عائد کر سکتا ہے، جس سے دوطرفہ تجارت متاثر ہوتی۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ان کی دھمکی کے بعد دونوں جانب سے فائرنگ روک دی گئی۔
انہوں نے اس تنازعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت دونوں جوہری صلاحیت کے حامل ممالک ہیں، اس لیے ان کے درمیان جنگ کا پھیلاؤ انتہائی سنگین نتائج کا باعث بن سکتا تھا۔
تاہم، پاک بھارت جنگ بندی میں اپنے کردار سے متعلق ٹرمپ کے دعوے پر بھارت پہلے بھی اختلاف کرتا رہا ہے۔ طیاروں کی تعداد اور جنگ بندی کے پس منظر سے متعلق مختلف بیانات سامنے آ چکے ہیں، اس لیے ان دعوؤں کو آزادانہ طور پر تصدیق شدہ حقائق کے بجائے امریکی صدر سے منسوب بیان کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔
نوبیل امن انعام نہ ملنے پر ٹرمپ کا فریاد
امریکی صدر نےاپنے خطاب میں نوبیل امن انعام کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ بیشتر تنازعات کے خاتمے میں کردار ادا کرنے کے باوجود انہیں یہ اعزاز نہیں ملا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی تنقید کی اور دعویٰ کیا کہ تنازعات رکوانے کے لیے انہیں عالمی ادارے کی مدد حاصل نہیں ہوئی۔
ٹرمپ ماضی میں بھی پاکستان اور بھارت کے مابین جنگ بندی میں امریکی کردار کا دعویٰ کرتے رہے ہیں۔ ان کے حالیہ بیان میں ایک مرتبہ پھر یہ مؤقف سامنے آیا کہ تجارتی دباؤ نے دونوں ممالک کو لڑائی روکنے پر آمادہ کیا۔
ایران سے متعلق ممکنہ امریکی کارروائی کا اشارہ
خطاب کے دوران ٹرمپ نے ایران کے بارے میں بھی بات کی اور کہا کہ امریکا ایک اور فوجی آپریشن کرنے کا ارادہ کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن کے سامنے یہ سوال ہے کہ آیا ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم کر دی جائے یا دباؤ برقرار رکھتے ہوئے تہران کو مزید کمزور ہونے دیا جائے۔
ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی انتظامیہ ایران کے معاملے پر فوجی کارروائی اور تنازعے کے خاتمے، دونوں امکانات پر غور کر رہی ہے۔ تاہم، ٹرمپ کے بیان سے کسی نئے آپریشن کے حتمی فیصلے کی تصدیق نہیں ہوتی۔
ایران کے بعد کیوبا پر توجہ دینے کا عندیہ
ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے متعلق معاملے کے بعد امریکا کی توجہ کیوبا کی جانب بھی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے بھیجا جا سکتا ہے، تاہم انہوں نے اس حوالے سے تفصیلی لائحہ عمل بیان نہیں کیا۔
آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل سے متعلق بیان
آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ اس اہم بحری راستے سے تیل کی ترسیل جاری ہے اور امریکا اپنی شرائط کے مطابق وہاں سے تیل حاصل کر رہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس راستے سے تیل کی برآمدات جنگ سے پہلے کی سطح سے بھی زیادہ ہیں۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے، اس لیے یہاں پیدا ہونے والی کشیدگی عالمی تیل منڈی اور بین الاقوامی تجارت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ ٹرمپ کے بیان میں تیل کی ترسیل اور برآمدات سے متعلق اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
امریکی صدر کے حالیہ خطاب میں پاک بھارت جنگ، نوبیل امن انعام، ایران اور کیوبا سمیت متعدد اہم معاملات زیرِ بحث آئے۔ ان کے بیانات نے ایک بار پھر خطے میں جنگ بندی کے پس منظر اور امریکا کے سفارتی و تجارتی کردار پر بحث کو نمایاں کر دیا ہے۔
