سندھ میں ریبیز سے مزید 2 بچوں کی موت، مجموعی ہلاکتیں 37 تک پہنچ گئیں
کراچی: سندھ میں ریبیز کے باعث مزید دو بچوں کی جان چلی گئی، جس کے بعد صوبے میں اس خطرناک بیماری سے ہونے والی مجموعی اموات کی تعداد 37 ہوگئی ہے۔
اسپتال ذرائع کے مطابق کراچی کے انڈس اسپتال میں ریبیز سے متاثرہ دو بچوں کو علاج کے لیے لایا گیا تھا، تاہم دونوں جانبر نہ ہوسکے۔ جاں بحق ہونے والے بچوں میں حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی 6 سالہ بچی اور دادو کا 4 سالہ بچہ شامل ہیں۔
اسپتال حکام کے مطابق 6 سالہ ابیہہ، دختر نعمان، ایئرپورٹ روڈ لطیف آباد، ضلع حیدرآباد کی رہائشی تھی۔ بچی کو کتے کے کاٹنے کے بعد ریبیز کی علامات ظاہر ہونے پر کراچی کے انڈس اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں طبی امداد کے باوجود اس کی حالت بہتر نہ ہوسکی۔
دوسرے جاں بحق بچے کی شناخت 4 سالہ وقار، پسر سلطان، کے نام سے ہوئی ہے۔ حکام کے مطابق بچے کا تعلق ضلع دادو کے گاؤں راضی خان سے تھا۔ ریبیز سے متاثر ہونے کے بعد اسے بھی علاج کے لیے انڈس اسپتال کراچی پہنچایا گیا، تاہم وہ بھی دم توڑ گیا۔
اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دونوں بچوں کو کتے کے کاٹنے کے بعد ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین نہیں لگائی گئی تھی۔ طبی ماہرین کے مطابق کتے کے کاٹنے کے بعد بروقت طبی معائنہ اور ضروری ویکسینیشن نہ ہونے کی صورت میں ریبیز جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔
سندھ میں ریبیز سے اموات کی تفصیلات
اسپتال حکام کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق انڈس اسپتال کراچی میں اب تک ریبیز کے باعث 28 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انڈس اسپتال بدین میں ایک ہلاکت جبکہ جناح اسپتال کراچی میں ریبیز سے 8 اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔
ان اعداد و شمار کے مطابق سندھ میں ریبیز سے ہونے والی مجموعی اموات 37 تک پہنچ چکی ہیں، جس نے کتے کے کاٹنے کے واقعات اور بروقت طبی امداد کی اہمیت کو مزید اجاگر کردیا ہے۔
کراچی میں ڈاگ بائٹ کیسز میں اضافہ
حکام کے مطابق کراچی کے مختلف اسپتالوں میں کتوں کے کاٹنے کے ہزاروں واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔ انڈس اسپتال کراچی میں اب تک سگ گزیدگی کے 14 ہزار سے زائد کیسز سامنے آچکے ہیں۔
دوسری جانب جناح اسپتال کراچی اور سول اسپتال کراچی میں بھی کتے کے کاٹنے کے 11، 11 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ کیے جاچکے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق کتے کے کاٹنے کے بعد زخم کو نظر انداز کرنے کے بجائے فوری طور پر قریبی طبی مرکز سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ بروقت ویکسینیشن اور طبی اقدامات ریبیز سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
سندھ میں ریبیز سے ہونے والی نئی اموات نے ایک بار پھر آوارہ کتوں کی روک تھام، سگ گزیدگی کے متاثرین کے لیے ویکسین کی دستیابی اور عوام میں آگاہی کی ضرورت کو نمایاں کردیا ہے۔
