بچپن کے صدمات پر والدین کو ہر بار ذمہ دار قرار دینا درست نہیں، فرح سعدیہ

معروف اداکارہ اور میزبان فرح سعدیہ نے بچپن کے تلخ تجربات اور بعد کی زندگی میں پیش آنے والی مشکلات کا ذمہ دار والدین کو قرار دینے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔

فرح سعدیہ نے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں والدین اور بچوں کے تعلق سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں زندگی کے مختلف مسائل کی وجہ والدین کے رویوں کو قرار دینے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ہر مشکل یا ناکامی کی ذمہ داری والدین پر عائد کرنا مناسب طرزِ عمل نہیں۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ انسان کو اپنی زندگی میں پیش آنے والے حالات اور اپنی غلطیوں پر بھی غور کرنا چاہیے۔ اگر کوئی شخص ہر مسئلے کا سبب اپنے والدین کو قرار دیتا رہے اور اپنی ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کرے تو یہ رویہ شخصیت پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

فرح سعدیہ نے گفتگو کے دوران یہ نکتہ بھی واضح کیا کہ اس معاملے کو یک طرفہ انداز میں نہیں دیکھا جا سکتا۔ ان کے مطابق والدین بھی انسان ہیں اور ان میں ذہنی صحت سے متعلق مسائل یا دیگر مشکلات موجود ہو سکتی ہیں، جن کے اثرات بچوں کی تربیت اور گھریلو ماحول پر پڑ سکتے ہیں۔

انہوں نے اس حقیقت کو بھی تسلیم کیا کہ بعض والدین کا رویہ بچوں کے لیے واقعی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ایسے حالات میں بچوں کے تجربات اور ان سے پیدا ہونے والے جذباتی مسائل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم ان کے خیال میں ہر شخص کو اپنی موجودہ زندگی کے مسائل کا جائزہ لیتے ہوئے اپنی ذمہ داری کے پہلو کو بھی سمجھنا چاہیے۔

فرح سعدیہ کی اس گفتگو کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف آرا سامنے آئیں۔ بعض افراد نے ان کے مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کے تجربات کے ساتھ ساتھ موجودہ حالات اور ذاتی فیصلوں کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔

دوسری جانب کچھ صارفین نے اس رائے سے اختلاف کیا اور کہا کہ بچپن میں والدین کے رویے کا بچوں کی شخصیت اور جذباتی نشوونما پر گہرا اثر پڑ سکتا ہے، اس لیے حقیقی مسائل کو محض والدین کو الزام دینے کا رجحان قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

فرح سعدیہ کی گفتگو نے والدین، بچوں، ذہنی صحت اور ماضی کے تجربات کے درمیان تعلق کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ اس موضوع پر مختلف افراد اپنے ذاتی تجربات اور آرا بھی شیئر کر رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *