بہاولنگروائلڈ لائف کے چھاپوں
کے دوران برآمد ہونے والے جانوروں کو فروخت کیا جانے کا انکشاف، غریب معذور اپنے پالتو تیتر کے دربدر جرمانہ وصول کرنے کے باوجود پرندہ واپس نہ ہوسکا، گھروں میں پرندے پالنے والے شہریوں نے محکمہ وائلڈ لائف پنجاب سے فوری نوٹس کا مطالبہ کردیا
۔تفصیلات کے مطابق گھروں میں پرندے پالنے اور جنگلی حیات سے محبت کرنے والے شائقین نے محکمہ وائلڈ لائف پنجاب کے فیلڈ اسٹاف کے مبینہ رویے کے خلاف آواز بلند کردی۔ شائقین کا کہنا ہے کہ تحفظِ جنگلی حیات کے نام پر انہیں مسلسل ذہنی اذیت، چھاپوں، جرمانوں اور ہراساں کیے جانے کا سامنا ہے، جس کے باعث لوگ اپنے دیرینہ شوق سے دور ہونے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ڈونگہ بونگہ کے رہائشی معذور شہری محمد اسلم ولد عبد القیوم نے درخواست دی کہ میں نے گھر میں پالتو تیتر کے ساتھ وقت گزار کر دل بہلاتا تھا کچھ روز قبل وائلڈ لائف انسپکٹر سیماب اور سیمع اللہ عملہ سمیت مبینہ طور پر اس کا تیتر لے گیا۔ کئی ہفتوں تک معاملہ سامنے نہ آنے کے بعد جب متاثرہ شوقین نے آواز اٹھائی تو کارروائی اور جرمانے کردیا گیا۔ شوقین کا سوال ہے کہ اگر قانون کے تحت جرمانہ وصول کرلیا گیا ہے تو پالتو پرندہ واپس کیوں نہیں کیا گیا اور وہ اس وقت کہاں ہے۔شکایت کنندگان کا کہنا ہے کہ قید میں پالے گئے پرندے کو اچانک جنگل میں چھوڑنے یا کسی دوسرے مقام پر منتقل کرنے سے اس کی جان کو خطرہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض قیمتی پرندوں کو اٹھانے، تبدیل کرنے یا ان کی جگہ دوسرے پرندے چھوڑنے سے متعلق بھی شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں، جن کی غیر جانبدارانہ انکوائری ضروری ہے۔وائلڈ لائف شوقینوں نے مزید دعویٰ کیا کہ بعض اہلکار قانون کی آڑ میں شہریوں کے گھروں میں داخل ہوکر چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہیں، جبکہ لائسنس یافتہ بریڈرز اور فارم مالکان کو بھی پرندوں کی افزائشِ نسل اور بریڈ کی فروخت میں مشکلات کا سامنا ہے۔مسلسل چھاپوں، خوف اور مبینہ تذلیل کے باعث گھریلو افزائشِ نسل کا رجحان بھی متاثر ہورہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگ پرندوں کی بریڈ تیار کرنے کے باوجود انہیں فروخت کرنے سے گریزاں ہیں، جس سے نئی نسل میں جنگلی حیات سے محبت کا رجحان کم ہونے کا خدشہ ہے۔متاثرہ شہریوں نے ڈی جی وائلڈ لائف پنجاب اور اسسٹنٹ چیف وائلڈ لائف رینجر بہاولنگر سے مطالبہ کیا ہے کہ غریب معذور شہری کے تیتر کے معاملے کی فوری تحقیقات کی جائیں، ضبط کیے گئے پرندوں کا مکمل ریکارڈ سامنے لایا جائے، جرمانہ ادا کرنے والوں کے پرندے قانون کے مطابق واپس کیے جائیں اور گھریلو کیپٹو بریڈنگ کے لیے آسان، شفاف اور قانونی طریقہ کار وضع کیا جائے۔شوقینوں کا کہنا ہے کہ جنگلی حیات سے محبت کو جرم بنانے کے بجائے اسے تحفظِ جنگلی حیات کا ذریعہ بنایا جائے، کیونکہ شوقینوں کو سہولت دی جائے گی تو پرندوں کی نسلیں بھی محفوظ رہیں گی۔
