بہاولنگر میں پسند کی شادی کرنے والی خاتون نے اپنے اہلِ خانہ اور دیگر افراد پر مبینہ طور پر ہراساں کرنے اور جان سے نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دینے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ نسیم بی بی کا کہنا ہے کہ اس کے گھر والے اسے مختیار پٹھان کے ساتھ شادی پر مجبور کرنا چاہتے تھے، تاہم اس نے انکار کرتے ہوئے اپنی مرضی سے مجید جھبیل سے شادی کرلی۔ خاتون کے مطابق شادی کے بعد سے اسے اور اس کے شوہر کو مبینہ طور پر مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے اور وہ خوف کے باعث عزیزوں کے گھروں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ نسیم بی بی نے وزیراعلیٰ پنجاب اور اعلیٰ پولیس حکام سے تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے

نسیم بی بی نے پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میں ضلع وہاڑی کی رہائشی ہوں اور اپنی مرضی سے چیچہ وطنی میں مجید جھبیل سے شادی کی، جس کے بعد مبینہ طور پر اس کا خاندان اور دیگر افراد کی جانب سے اسے اور اس کے شوہر کو ہراساں کیا جانے لگا خاتون کا الزام ہے کہ اس کے گھر والے اسے مختیار پٹھان کے ساتھ شادی پر مجبور کرنا چاہتے تھے، جبکہ انکار کے بعد مختیار پٹھان، اس کے بھائی فیصل اور دیگر افراد مبینہ طور پر اس کے دشمن بن گئے۔نسیم بی بی کا مزید کہنا ہے کہ جان کے خوف کے باعث وہ اور اس کا شوہر آزادانہ زندگی گزارنے سے قاصر ہیں اور بہاولنگر میں اپنے عزیزوں کے گھروں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔خاتون نے الزام عائد کیا کہ بااثر افراد مبینہ طور پر پولیس سے ملی بھگت کرکے اسے اور اس کے شوہر کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ نسیم بی بی نے وزیراعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب اور دیگر اعلیٰ پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں تحفظ فراہم کیا جائے اور مبینہ طور پر ہراساں کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *