کفایت شعاری اقدامات سے 16 ارب 80 کروڑ روپے کی بچت متوقع، سیکریٹری خزانہ

اسلام آباد: وفاقی حکومت کی جانب سے اخراجات کم کرنے کے لیے کیے گئے نئے کفایت شعاری اقدامات سے مجموعی طور پر تقریباً 16 ارب 80 کروڑ روپے کی بچت متوقع ہے، تاہم سرکاری گاڑیوں کے لیے ایندھن کی فراہمی میں 50 فیصد کمی سے تین ماہ کے دوران صرف 70 کروڑ روپے بچائے جاسکیں گے۔

وفاقی سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو آئی ایم ایف پروگرام پر عمل درآمد کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے سرکاری اخراجات میں کمی کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔ ان میں سرکاری گاڑیوں کے ایندھن کی فراہمی کم کرنا اور غیر تنخواہی اخراجات میں کمی شامل ہے۔

سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں 50 فیصد کمی

سیکریٹری خزانہ کے مطابق سرکاری گاڑیوں کے لیے فیول الاؤنس میں نصف کمی تین ماہ کے لیے کی گئی ہے، جس سے تقریباً 70 کروڑ روپے کی بچت کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

اس کے علاوہ مالی سال کے دوران سرکاری اداروں کے غیر تنخواہی اخراجات میں 5 فیصد کمی سے تقریباً 16 ارب 10 کروڑ روپے بچنے کی توقع ہے۔ دونوں اقدامات کو ملا کر کفایت شعاری سے حاصل ہونے والی مجموعی بچت تقریباً 16.8 ارب روپے بنتی ہے۔

کمیٹی کے اجلاس میں اس حوالے سے سوال بھی اٹھایا گیا کہ آیا حکومت کی کفایت شعاری مہم واقعی اخراجات میں نمایاں کمی لانے کے لیے ہے یا اس کا دائرہ محض محدود اقدامات تک ہے۔ تاہم سیکریٹری خزانہ نے اس سوال کا براہ راست جواب دینے سے گریز کیا۔

سیکریٹری خزانہ، جو حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، نے کمیٹی کو بتایا کہ مجموعی طور پر آئی ایم ایف پروگرام پر عمل درآمد کی صورتحال مضبوط رہی ہے، تاہم بعض اہم شرائط اور اصلاحاتی اہداف مقررہ مدت میں مکمل نہیں کیے جاسکے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس سید نوید قمر کی صدارت میں ہوا، جس میں آئی ایم ایف پروگرام کے تقریباً دو سال مکمل ہونے کے بعد اس پر ہونے والی پیش رفت، مالی اصلاحات اور حکومت کے آئندہ اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

چینی کی مارکیٹ آزاد کرنے کی شرط پر پیش رفت

امداد اللہ بوسال نے بتایا کہ چینی کے شعبے کو آزاد کرنے سے متعلق پالیسی پر تین صوبے رضامند ہوچکے ہیں، جبکہ ایک صوبے کی جانب سے بعض تحفظات سامنے آئے ہیں جنہیں دور کرنے کے لیے بات چیت جاری ہے۔

آئی ایم ایف پروگرام کے تحت حکومت کو چینی کی مارکیٹ میں سرکاری مداخلت کم کرنے اور ایک قومی پالیسی تشکیل دینے کی شرط پوری کرنا تھی۔ اس پالیسی میں لائسنسنگ، قیمتوں کے تعین، درآمد و برآمد کے اجازت ناموں اور شوگر زوننگ سے متعلق اصلاحات شامل ہیں۔

حکومت مقررہ مدت میں اس پالیسی کی حتمی منظوری حاصل نہیں کرسکی، جس کے باعث یہ معاملہ آئی ایم ایف کے جائزے میں بھی زیر بحث ہے۔

زرعی آمدن پر ٹیکس کا معاملہ

قائمہ کمیٹی کو زرعی آمدن پر ٹیکس سے متعلق پیش رفت کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔ سیکریٹری خزانہ کے مطابق اس شعبے میں آئی ایم ایف کی شرط پر عمل درآمد کی رفتار توقعات کے مطابق نہیں رہی۔

اجلاس میں پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی حنا ربانی کھر سمیت دیگر ارکان نے ٹیکس اصلاحات اور حکومتی اقدامات کے عملی نتائج پر سوالات اٹھائے۔

سید نوید قمر نے زرعی آمدن پر ٹیکس کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صرف ٹیکس کی شرح بڑھانے سے لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانا کافی نہیں، بلکہ اس کے لیے مؤثر نظام اور قابل عمل پالیسی بھی ضروری ہے۔

صحت اور تعلیم کے اہداف بھی مکمل نہ ہوسکے

سیکریٹری خزانہ نے کمیٹی کو بتایا کہ صحت اور تعلیم کے شعبوں سے متعلق آئی ایم ایف کے بعض اہداف بھی حاصل نہیں ہوسکے۔ ان کے مطابق بعض صوبوں کی جانب سے مقررہ اخراجات نہ کیے جانے کے باعث ان شعبوں میں مطلوبہ پیش رفت سامنے نہیں آسکی۔

آئی ایم ایف پروگرام میں مالی نظم و ضبط کے ساتھ ساتھ صوبائی سطح پر اخراجات اور عوامی خدمات کے معیار سے متعلق اہداف بھی شامل ہیں۔ حکومت اور صوبوں کے درمیان مالی ذمہ داریوں اور اخراجات کے معاملات بھی پروگرام کے جائزوں کا حصہ رہے ہیں۔

سرکاری اداروں اور انسداد بدعنوانی سے متعلق اصلاحات

قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ مزید 9 سرکاری اداروں کے قوانین کو اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز ایکٹ کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کا ہدف بھی مقررہ وقت میں مکمل نہیں کیا جاسکا۔

انسداد بدعنوانی سے متعلق اصلاحات پر بریفنگ دیتے ہوئے سیکریٹری خزانہ نے بتایا کہ وزیراعظم نے وفاقی وزیر قانون و انصاف اور قومی احتساب بیورو کو ایسے 10 سرکاری اداروں کے لیے ایکشن پلان تیار کرنے کی ذمہ داری دی ہے جہاں بدعنوانی کے خطرات زیادہ سمجھے جاتے ہیں۔

اس منصوبے کا مقصد متعلقہ اداروں میں بدعنوانی کے خطرات کی نشاندہی، ان میں کمی اور انتظامی و قانونی طریقہ کار کو مزید مؤثر بنانا ہے۔

آئی ایم ایف کے ساتھ مزید اصلاحات پر کام جاری

حکومت اس وقت آئی ایم ایف پروگرام کے تحت متعدد قانونی، مالی اور انتظامی اصلاحات پر کام کر رہی ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو حالیہ بریفنگ میں بتایا گیا کہ مختلف شعبوں میں قانون سازی اور اصلاحات کے لیے بڑی تعداد میں ترامیم زیر غور ہیں، جن میں مالیاتی شعبہ، سرکاری اداروں کا انتظام، ترسیلات زر اور معاشی گورننس شامل ہیں۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات کا مقصد مالیاتی استحکام، محصولات میں بہتری، سرکاری اخراجات کو قابو میں رکھنا اور معیشت میں ساختی تبدیلیاں لانا ہے، جبکہ قائمہ کمیٹی نے ان اقدامات کے عملی اثرات اور عوامی سطح پر نتائج کا بھی جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *