ایک ماہ میں پیٹرول کی قیمت میں 59 روپے سے زائد اضافہ
اسلام آباد: ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث شہریوں پر مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ حکومتی فیصلوں کے نتیجے میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں تقریباً 59 روپے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 32 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ بنیاد پر تعین کا سلسلہ 18 جولائی 2026 سے شروع کیے جانے کے بعد قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔ حالیہ عرصے میں قیمتوں میں کمی کے بجائے اضافے کا رجحان زیادہ نمایاں رہا، جس کا براہِ راست اثر عوام کے روزمرہ اخراجات پر پڑ رہا ہے۔
16 ستمبر کے لیے بھی پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ تازہ فیصلے کے تحت پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 4 روپے 10 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 6 روپے 41 پیسے کا اضافہ ہوا۔
تازہ اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 384 روپے 34 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 415 روپے 83 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔
ایک ماہ میں قیمتوں میں نمایاں فرق
اگر 14 اگست کی قیمتوں کا موجودہ نرخوں سے تقابل کیا جائے تو اس عرصے کے دوران پیٹرول کی قیمت میں نمایاں اضافہ سامنے آتا ہے۔ 14 اگست کو پیٹرول 325 روپے 43 پیسے فی لیٹر میں دستیاب تھا، جو اب بڑھ کر 384 روپے 34 پیسے فی لیٹر ہوگیا ہے۔
اسی طرح 14 اگست کو ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 383 روپے 95 پیسے فی لیٹر تھی، جو حالیہ اضافے کے بعد 415 روپے 83 پیسے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے۔
اس حساب سے ایک ماہ کے دوران پیٹرول کی قیمت میں 58 روپے 91 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل میں 31 روپے 88 پیسے کا اضافہ بنتا ہے۔
مسلسل اضافے سے عوام متاثر
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا اثر صرف گاڑیوں کے ایندھن تک محدود نہیں رہتا بلکہ ٹرانسپورٹ کے کرایوں، اشیائے ضروریہ کی ترسیل اور دیگر روزمرہ اخراجات پر بھی پڑتا ہے۔
خصوصاً ڈیزل کی قیمت میں اضافے کے باعث مال بردار گاڑیوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کے آپریٹنگ اخراجات بڑھ سکتے ہیں، جبکہ پیٹرول مہنگا ہونے سے ذاتی گاڑی استعمال کرنے والے شہریوں کے ماہانہ بجٹ پر بھی اضافی بوجھ پڑتا ہے۔
گزشتہ آٹھ روز سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری رہنے کے باعث شہریوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ عوامی حلقوں کی جانب سے مسلسل بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں کو مہنگائی کے مجموعی دباؤ سے جوڑا جا رہا ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں ہونے والی حالیہ تبدیلی کے بعد نہ صرف موٹر سائیکل اور گاڑی استعمال کرنے والے افراد کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے بلکہ کاروباری سرگرمیوں اور اشیاء کی نقل و حمل کی لاگت بھی متاثر ہونے کا امکان ہے۔
موجودہ صورتحال میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آئندہ ہونے والی تبدیلیاں عوام اور کاروباری طبقے دونوں کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہیں، کیونکہ ایندھن کے نرخ ملکی معیشت اور روزمرہ زندگی کے اخراجات پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔
