سعودی عرب کے 3 شہروں میں میزائل اور ڈرون حملے، 13 افراد زخمی، شہری املاک کو نقصان
دبئی: سعودی عرب کے تین مختلف شہروں خمیس مشیط، ابہا اور طائف میں حوثی جنگجوؤں کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں 13 افراد زخمی ہوگئے، جبکہ متعدد رہائشی عمارتوں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ حملوں کے بعد سعودی حکام نے شہری علاقوں کے تحفظ اور مزید کارروائیوں کی روک تھام کے لیے سخت ردعمل دینے کا عندیہ دیا ہے۔
خلیجی میڈیا رپورٹس کے مطابق یمن میں آئینی حکومت کی حمایت کرنے والے سعودی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ حوثیوں نے سعودی عرب کے شہری علاقوں کو بیلسٹک میزائلوں اور بغیر پائلٹ ڈرون طیاروں کے ذریعے نشانہ بنانے کی کوشش کی۔
ترجمان کے مطابق حوثیوں کی جانب سے کیے گئے حملوں کے دوران مختلف مقامات پر شہری آبادی متاثر ہوئی۔ حملوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر 13 افراد زخمی ہوئے، جنہیں معمولی سے درمیانے درجے کے زخم آئے۔ زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی گئی، جبکہ متاثرہ علاقوں میں نقصان کا جائزہ لینے اور سکیورٹی صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے متعلقہ اداروں نے کارروائی شروع کردی۔
میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ میزائل اور ڈرون حملوں کے باعث کم از کم 7 رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا، جبکہ 2 گاڑیاں بھی متاثر ہوئیں۔ ان کے مطابق شہری آبادی اور رہائشی املاک کو پہنچنے والا نقصان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حوثی عناصر کی جانب سے شہری علاقوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
سعودی اتحاد کے ترجمان نے حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اپنی سرحدوں، شہریوں اور شہری تنصیبات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے کا حق رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی اتحاد ملک کی خودمختاری اور عوام کی سلامتی کو لاحق کسی بھی خطرے کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرے گا۔
ترکی المالکی نے مزید واضح کیا کہ سعودی عرب کی جانب سے کسی بھی ممکنہ کارروائی کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے مطابق انجام دیا جائے گا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاستوں کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اور سعودی عرب بھی اپنی سلامتی کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے اسی حق کو استعمال کرسکتا ہے۔
سعودی اتحاد کے ترجمان کے مطابق آئندہ دنوں میں حوثیوں کی جانب سے کسی بھی ممکنہ حملے یا خطرناک سرگرمی کی صورت میں اسے روکنے کے لیے تمام ضروری فوجی اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو محفوظ رکھنا اور سعودی علاقوں کو میزائل و ڈرون حملوں سے بچانا اتحاد کی ترجیحات میں شامل ہے۔
رپورٹس کے مطابق سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں ماضی میں بھی یمن سے میزائل اور ڈرون حملوں کی کوششیں سامنے آتی رہی ہیں، جنہیں سعودی دفاعی نظام کے ذریعے ناکام بنانے کی اطلاعات جاری کی جاتی رہی ہیں۔ تاہم حالیہ حملوں میں رہائشی املاک کو نقصان اور شہریوں کے زخمی ہونے سے صورتحال کی حساسیت مزید بڑھ گئی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب یمن کے معاملے پر خطے میں پہلے ہی کشیدگی موجود ہے۔ یمن میں جاری تنازع کے اثرات صرف سعودی عرب اور یمن تک محدود نہیں بلکہ بحیرہ احمر اور خلیجی خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال بھی اس سے متاثر ہو رہی ہے۔
