کراچی: شہر کے علاقے منگھوپیر میں پولیس کی وردی میں گھر میں داخل ہو کر ایک نوجوان کو قتل کیے جانے کے واقعے کے خلاف ورثا، سیاسی و مذہبی جماعتوں کے کارکنان اور علاقہ مکینوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے تھانے کے باہر دھرنا دے دیا۔ مظاہرین نے نوجوان کی لاش تھانے کے باہر رکھ کر ملزمان کی فوری گرفتاری اور واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

احتجاج کے دوران علاقے میں کشیدگی کی صورتحال پیدا ہوگئی، جبکہ بڑی تعداد میں شہری دھرنے میں شریک ہوئے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ شہریوں کے گھروں میں پولیس کی وردی استعمال کرتے ہوئے داخل ہونا اور اس کے بعد مبینہ طور پر لوٹ مار، تشدد اور قتل جیسے واقعات انتہائی تشویشناک ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ نوجوان کے قتل کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور واقعے میں ملوث تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

دھرنے میں جمعیت علمائے اسلام، پاکستان پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، عوامی نیشنل پارٹی سے وابستہ مقامی رہنماؤں اور کارکنوں کے علاوہ علماء کرام اور مختلف سیاسی و سماجی حلقوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی شرکت کی۔ احتجاج کے شرکا نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور ملزمان کی گرفتاری کے حق میں نعرے بھی لگائے۔

مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ منگھوپیر اور اس کے گردونواح میں گزشتہ کئی ہفتوں سے ایسے واقعات کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں جن میں مبینہ طور پر مسلح افراد پولیس کی وردی یا سرکاری اہلکاروں کا روپ دھار کر گھروں میں داخل ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق بعض واقعات میں شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانے، قیمتی سامان لوٹنے اور خوف و ہراس پھیلانے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔

جے یو آئی کے رہنما مفتی محمد خالد نے احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیس وردی کے مبینہ غلط استعمال کے واقعات کو معمولی سمجھنا شہریوں کے لیے خطرناک نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسے واقعات کی بروقت تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے تو مستقبل میں اس نوعیت کے جرائم کی روک تھام ممکن ہے۔

مفتی محمد خالد کے مطابق علاقہ مکین پہلے بھی متعلقہ حکام کی توجہ ان مبینہ وارداتوں کی جانب مبذول کرا چکے ہیں، تاہم ان کے بقول ابھی تک ایسی مؤثر کارروائی سامنے نہیں آئی جس سے شہریوں کا اعتماد بحال ہو سکے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نوجوان کے قتل کے واقعے میں ملوث افراد کی شناخت کرکے انہیں فوری گرفتار کیا جائے اور تحقیقات کے تمام مراحل شفاف انداز میں مکمل کیے جائیں۔

احتجاج میں شریک نوجوان کے اہل خانہ اور دیگر ورثا نے بھی انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے پیارے کی موت پر خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے کے ذمہ داروں کو گرفتار کرکے قانون کے مطابق سزا دی جائے تاکہ آئندہ کسی شہری کے ساتھ ایسا سانحہ پیش نہ آئے۔

مظاہرین نے واضح کیا کہ جب تک ملزمان کی گرفتاری اور واقعے کے بارے میں واضح پیش رفت سامنے نہیں آتی، دھرنا جاری رکھا جائے گا۔ احتجاج کے شرکا نے انتظامیہ اور پولیس حکام کو خبردار کیا کہ مطالبات پر فوری توجہ نہ دی گئی تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

مظاہرین کے مطابق آئندہ مرحلے میں نادرن بائی پاس سمیت شہر کے دیگر اہم مقامات پر بھی احتجاج کیا جا سکتا ہے۔ شرکا نے حکومت اور پولیس کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے اور منگھوپیر کے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

دوسری جانب واقعے کے حوالے سے پولیس کا مؤقف اور تحقیقات کی حتمی تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔ واقعے کے تمام پہلوؤں کا تعین تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *