دیپالپور: پاکستان پیپلز پارٹی خواتین ونگ کی صوبائی رہنما اور پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کی وائس چیئرپرسن جہاں آرا وٹو نے ملک میں انتظامی نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ضرورت کے مطابق نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کی حمایت کردی۔ ان کا کہنا ہے کہ پنجاب، بلوچستان، ہزارہ سمیت دیگر علاقوں میں عوامی ضروریات اور انتظامی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے صوبے یا انتظامی یونٹس تشکیل دیے جا سکتے ہیں۔
جہاں آرا وٹو نے ان خیالات کا اظہار سٹی پریس کلب دیپالپور میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ملک میں اختیارات کی مرکزیت، بڑے صوبوں کے انتظامی مسائل اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی سمیت مختلف امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے بڑے صوبوں کو ایک ہی انتظامی مرکز سے مؤثر انداز میں چلانا ایک بڑا چیلنج ہے۔ آبادی، رقبے اور مختلف علاقوں کی ضروریات میں نمایاں فرق کے باعث ایک ہی طرز کا انتظامی نظام ہر علاقے کے مسائل کا فوری حل فراہم نہیں کر سکتا۔ ان کے مطابق انتظامی معاملات کو آسان بنانے اور شہریوں کو حکومتی اداروں تک بہتر رسائی دینے کے لیے جہاں ضرورت محسوس ہو، وہاں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔
جہاں آرا وٹو نے خاص طور پر ڈویژنل اور ضلعی حکومتوں کو زیادہ اختیارات دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر فیصلہ سازی اور انتظامی اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کیا جائے تو عوام کو اپنے مسائل کے حل کے لیے دور دراز حکومتی مراکز کا رخ نہیں کرنا پڑے گا۔
ان کے مطابق مقامی سطح پر بااختیار حکومتیں اپنے علاقوں کے مسائل کو زیادہ بہتر طریقے سے سمجھ سکتی ہیں، کیونکہ انہیں عوام کی روزمرہ ضروریات اور مقامی حالات کا براہِ راست علم ہوتا ہے۔ صحت، تعلیم، صفائی، روزگار، سماجی بہبود اور دیگر بنیادی شعبوں میں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی سے سرکاری نظام کی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
پیپلز پارٹی رہنما نے نوجوانوں کے کردار کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ فیصلہ سازی کے عمل میں نوجوان نسل کو زیادہ مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اختیارات نچلی سطح پر منتقل ہوں گے تو نوجوانوں کو بھی اپنے علاقوں کی ترقی اور انتظامی امور میں عملی کردار ادا کرنے کے مواقع میسر آئیں گے۔
جہاں آرا وٹو نے واضح کیا کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا مقصد کسی علاقے یا طبقے کو سیاسی طور پر تقسیم کرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس اقدام کو بہتر حکمرانی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور عوام کو حکومت کے قریب لانے کے اصولوں کے تحت آگے بڑھایا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی نئے صوبے یا انتظامی یونٹ کے قیام سے قبل اس کے انتظامی، معاشی اور سماجی اثرات کا مکمل جائزہ لینا ضروری ہے۔ اس حوالے سے تمام متعلقہ علاقوں کے عوام، سیاسی جماعتوں، ماہرین اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی رائے کو بھی اہمیت دی جانی چاہیے۔
ان کے مطابق نئے صوبوں کے معاملے پر کسی ایک سیاسی جماعت کا فیصلہ کافی نہیں ہوگا، بلکہ اس کے لیے وسیع تر قومی اور جمہوری اتفاقِ رائے پیدا کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کے انتظامی ڈھانچے میں کسی بھی بڑی تبدیلی کا مقصد عوامی مفاد اور ریاستی نظام کو مضبوط بنانا ہونا چاہیے۔
پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے جہاں آرا وٹو نے اپنے سیاسی مستقبل کے حوالے سے بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والد میاں منظور احمد خان وٹو نے این اے 137 کے عوام کی خدمت کی ہے اور اگر آئندہ عام انتخابات میں حلقے کے عوام نے انہیں موقع دینے کی خواہش ظاہر کی تو وہ این اے 137 سے انتخاب لڑنے پر غور کریں گی۔
جہاں آرا وٹو نے کہا کہ سیاست کا بنیادی مقصد عوام کی خدمت اور ان کے مسائل کے حل کے لیے کردار ادا کرنا ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی مسائل، سماجی بہبود اور انتظامی اصلاحات کے حوالے سے اپنی آواز مؤثر انداز میں اٹھاتی رہیں گی۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں مضبوط جمہوری نظام کے ساتھ ساتھ مؤثر انتظامی ڈھانچہ بھی ضروری ہے۔ ان کے مطابق اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرکے عوام کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کیا جائے تو حکومتی اداروں پر اعتماد بہتر بنانے اور شہریوں کے مسائل زیادہ تیزی سے حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
