تاریخ کے جھروکوں میں کچھ دن قوموں کی رگوں میں دوڑتے ہوئے لہو، ان کے عزمِ محکم اور بقا کی جنگ کے استعارے بن جاتے ہیں۔ چھ ستمبر کا دن پاکستانی تاریخ کا ایسا ہی ایک درخشاں باب ہے، جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب کوئی قوم اپنے نظریے، جغرافیے اور خودمختاری کے دفاع کے لیے سیسہ پلائی دیوار بن جائے، تو دشمن کی عددی برتری اور مکارانہ چالیں ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہیں1965 کا یہ دن اس وقت کے تاریخی پس منظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ وہ دور تھا جب برصغیر میں کشیدگی اپنے عروج پر تھی، اور 5 اور 6 ستمبر کی درمیانی شب جب دشمن نے بین الاقوامی سرحدوں کو پھلانگ کر ارضِ وطن پر بزدلانہ شب خون مارا، تو اس کا مقصد ایک علاقے پر قبضہ نہیں بلکہ پاکستان کی نظریاتی و جغرافیاتی اساس کو پارہ پارہ کرنا تھا۔ دشمن کو یہ غلط فہمی تھی کہ یہ نئی مملکت چند روز کی مہمان ہے اور دفاعی ساز و سامان کی برتری کے بل بوتے پر وہ لاہور کے قین خانہ میں ناشتہ کرے گا۔ لیکن وہ یہ بھول گیا تھا کہ جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ عزم، جرأت اور ایمانی قوت سے لڑی جاتی ہیں۔
اس کڑے وقت میں پاکستان کی مسلح افواج نے جس بے مثال شجاعت اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا، وہ عسکری تاریخ کا ایک انمٹ باب ہے۔ میجر عزیز بھٹی شہید نے برکی کے محاذ پر دشمن کے ٹینکوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر جس دلیری کی لازوال داستان رقم کی، وہ ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ اسی طرح لاہور، سیالکوٹ، اور چونڈہ کے محاذوں پر پاک فوج کے جوانوں اور افسروں نے جانوں کے نذرانے دے کر دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ چونڈہ کا محاذ تاریخ کا دوسرا بڑا ٹینکوں کا معرکہ کہلاتا ہے، جہاں ہمارے غازیوں اور شہداء نے دشمن کے آہنی حصار کو اپنے لہو سے پگھلا دیا۔ یہ قربانیاں صرف فوجی جوانوں تک محدود نہیں تھیں، بلکہ اس جنگ میں پوری قوم نے ایک ایسے عزم کا مظاہرہ کیا جو تاریخ میں نایاب ہے1965 کی جنگ کی سب سے بڑی خوبصورتی اس کا قومی اتحاد تھا۔ اس پر آشوب دور میں چھوٹے بڑے، امیر غریب، اور تمام لسانی و علاقائی تفریق کو بھلا کر پوری قوم ایک جسم کی طرح متحد ہو گئی تھی۔ کراچی سے لے کر خیبر تک، ہر شہری نے اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر یہ ثابت کر دیا تھا کہ بیرونی جارحیت کے خلاف یہاں کا بچہ بچہ سپاہی ہے۔عام شہریوں نے محاذِ جنگ تک خوراک، ادویات اور رسد پہنچانے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس اتحاد نے یہ باور کرایا کہ اگر قوم میں سچی لگن اور قربانی کا جذبہ موجود ہو تو دنیا کی کوئی طاقت اسے زیر نہیں کر سکتی۔
آج جب ہم 6 ستمبر کو یاد کرتے ہیں تو یہ دن صرف ماضی کے کارناموں کو دہرانے کا نام نہیں، بلکہ اپنے حال کا جائزہ لینے اور مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنے کا موقع ہے۔ آج پاکستان کو اندرونی اور بیرونی محاذوں پر جن چیلنجز کا سامنا ہے، وہ کسی بھی روایتی جنگ سے کم خطرناک نہیں۔ معاشی بحران، مہنگائی، توانائی کے مسائل، اور اندرونی انتشار جیسی مشکلات نے عام آدمی کا جینا محال کر رکھا ہے۔ ایسے میں ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم نے اس پاکستان کی تعمیر کی ہے جس کا خواب ہمارے بزرگوں نے دیکھا تھا اور جس کے دفاع کے لیے ہمارے شہداء نے اپنا خون بہایا تھا
موجودہ دور میں ہمیں یومِ دفاع کو تقریبات اور بیانات تک محدود نہیں رکھنا چاہیے، بلکہ اس کے حقیقی جذبے کو اپنانا ہوگا۔ آج ہمیں سرحدوں کے ساتھ ساتھ معاشی اور نظریاتی محاذ پر بھی اسی عزمِ نو کی ضرورت ہے۔ جب تک قوم میں باہمی اتفاق، انصاف، اور حب الوطنی کا جذبہ بیدار نہیں ہوگا، تب تک ہم حقیقی معنوں میں ایک مضبوط فلاحی ریاست نہیں بن سکتے۔ یہ وقت ہے کہ ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر اجتماعی مفاد کو ترجیح دی جائے، اور نوجوان نسل کو اس تاریخی ورثے سے روشناس کرایا جائے تاکہ وہ ملک کے بہتر مستقبل کے لیے اپنا کردار ادا کر سکیں۔
چھ ستمبر کا تقاضا ہے کہ ہم مایوسی کی فضا کو ترک کریں اور اس تجدیدِ عہد کے ساتھ آگے بڑھیں کہ اس ارضِ پاک کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ ہمارے شہداء کا خون اور غازیوں کا پسینہ اس بات کا ضامن ہے کہ یہ چراغ جلتا رہے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں، محنت کو اپنا شعار بنائیں اور ملک و قوم کی خدمت کو اپنی سب سے بڑی عبادت سمجھیں۔ یہی شہداء کو سچی خراجِ عقیدت پیش کرنے کا واحد اور بہترین طریقہ ہے۔
