آصف علی نائیک
5 ستمبر 2026
کبھی کبھی ایک چھوٹا سا واقعہ پورے معاشرے کا آئینہ بن جاتا ہے اور انسان سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ ہم نے ترقی کے نام پر بہت کچھ تو حاصل کرلیا مگر انسانیت کہاں کھو دی
حال ہی میں متحدہ عرب امارات میں ایک نایاب سفید فالکن کو نمائش کے لئے پیش کیا گیا جہاں بڑی بڑی کاروباری شخصیات اور فالکن کے شوقین افراد نے اس کی خریداری کے لئے بولی میں حصہ لیا اسی دوران ایک عرب باپ اپنی بیٹی کے ہمراہ اس نمائش میں موجود تھا بیٹی کی نظر اس خوبصورت فالکن پر پڑی تو اس نے اپنے والد سے اپنی خواہش کا اظہار کیا کہ وہ یہ فالکن چاہتی ہے۔
باپ نے بیٹی کی خواہش کو سمجھا اور خاموشی سے بولی کے عمل کو دیکھتا رہا بولی شروع ہوئی تو بیٹی بھی اس میں حصہ لینے لگی اور اپنی استطاعت کے مطابق قیمت بڑھاتی رہی حیرت انگیز منظر اس وقت دیکھنے کو ملا جب بولی میں شریک دوسرے افراد نے اس بچی کی خواہش اور اس کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے بولی سے دستبردار ہونا شروع کردیا۔بالآخر وہ نایاب سفید فالکن اس عرب باپ کی بیٹی کا ہوگیا۔
یہ واقعہ بظاہر ایک پرندے کی خریداری کا واقعہ ہے مگر اگر ہم اس کے پیچھے چھپی سوچ کو دیکھیں تو یہ ایک پورے معاشرے کی تربیت اور اقدار کی عکاسی کرتا ہے یہاں ایک باپ اپنی بیٹی کی خواہش کو عزت دیتا ہے اور معاشرہ اس خواہش کا احترام کرتا ہے۔
اب ذرا پاکستان کی طرف آئیے
یہاں ہر روز کوئی نہ کوئی معصوم بیٹی کسی درندہ صفت انسان کی ہوس کا شکار ہوجاتی ہے کسی کی عزت تار تار کردی جاتی ہے کسی کے خواب دفن کردیے جاتے ہیں کسی ماں کی گود اجاڑ دی جاتی ہے اور کسی باپ کی پوری زندگی اپنی بیٹی کے دکھ میں گزر جاتی ہے۔
ہم اکثر عربوں کی مثال دیتے رہے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں عرب اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کردیا کرتے تھے مگر آج سوال یہ ہے کہ کیا صرف زندہ دفن کرنا ہی بیٹیوں کو قتل کرنا تھا اگر ایک بیٹی کو زندہ رہتے ہوئے خوف میں مبتلا کردیا جائے اگر اسے گھر سے نکلتے ہوئے اپنی عزت کی فکر لاحق رہے اگر اسے معاشرے کے درندوں سے بچانے کے لئے باپ ہر وقت پریشان رہے اگر اس کی زندگی کے فیصلے اس کی مرضی کے بجائے معاشرے کے خوف سے کیے جائیں تو پھر ہمیں سوچنا ہوگا۔
کہ ہم کس مقام پر کھڑے ہیں
فرق صرف اتنا ہے کہ کبھی بیٹیوں کو مٹی میں دفن کیا جاتا تھا اور آج کئی بیٹیوں کے خواب اور زندگیاں ہماری بے حسی کے نیچے دفن ہورہی ہیں عرب معاشرہ بدل گیا انہوں نے اپنی بیٹی کو عزت دی اس کی خواہش کو اہمیت دی اس کے جذبات کا احترام کیا اور ہم نے اپنی بیٹیوں کو نصیحتیں تو بہت دیں مگر انہیں محفوظ معاشرہ دینے میں ناکام رہے بیٹی کسی قوم پر بوجھ نہیں ہوتی بیٹی رحمت ہوتی ہے۔
بیٹی گھر کی عزت ہوتی ہے
بیٹی مستقبل کی ماں ہوتی ہے
اور بیٹی کسی بھی معاشرے کے کردار کا امتحان ہوتی ہے
اگر ہم واقعی اپنی بیٹیوں کو عزت دینا چاہتے ہیں تو ہمیں صرف تقریروں اور نعروں سے آگے بڑھنا ہوگا ہمیں اپنے گھروں میں تربیت شروع کرنا ہوگی اپنے بچوں کو عورت کا احترام سکھانا ہوگا
قانون کو مضبوط بنانا ہوگا
مجرموں کو سزا دینا ہوگی
اور سب سے بڑھ کر خاموشی کا وہ کلچر ختم کرنا ہوگا جو درندوں کو حوصلہ دیتا ہے
ایک عرب باپ نے اپنی بیٹی کی خواہش کا احترام کرکے شاید صرف ایک فالکن اسے تحفے میں دیا مگر اس واقعے نے ہمیں ایک بہت بڑا سبق دے دیا قومیں اپنی عمارتوں سے نہیں بلکہ اپنی بیٹیوں کے تحفظ اور عزت سے پہچانی جاتی ہیں۔
اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم اپنی بیٹیوں کو صرف نصیحتیں دیں گے یا انہیں ایسا معاشرہ بھی دیں گے جہاں وہ سر اٹھا کر جینے کا حق رکھتی ہوں۔
