بینکاک: تھائی لینڈ سے ایک ایسے کاروباری شخص کی کہانی سامنے آئی ہے جس نے کئی دہائیوں کی محنت سے کھڑی کی گئی اپنی کامیاب کمپنی فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم ان کے منصوبے نے اس کاروباری فیصلے سے بھی زیادہ لوگوں کی توجہ حاصل کی ہے۔ کاروباری شخص کا کہنا ہے کہ وہ کمپنی فروخت کرنے کے بعد عام معنوں میں ریٹائرمنٹ کی زندگی گزارنے کے بجائے بدھ راہب بننا چاہتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اس کاروباری شخصیت نے اپنی کمپنی Hawell’s کو فروخت کرنے کے لیے 165 ملین تھائی بھات کی قیمت مقرر کی ہے۔ کمپنی کے اثاثوں میں زمین، دفتر، فیکٹری، مشینری، مختلف کاروباری لائسنس، ٹریڈ مارک اور کئی دہائیوں میں تیار کیے گئے آئس کریم کے فارمولے شامل ہیں۔

کاروباری شخص کے مطابق کمپنی سے علیحدگی ان کے لیے محض کاروباری فیصلے تک محدود نہیں بلکہ یہ ان کی زندگی کے ایک نئے مرحلے کا آغاز ہوگا۔ انہوں نے دنیاوی مصروفیات سے کنارہ کشی اختیار کرکے روحانی زندگی اپنانے کا منصوبہ کئی برس پہلے ہی بنا لیا تھا۔

15 سال سے روحانی زندگی کا منصوبہ

اس منفرد فیصلے کے حوالے سے کاروباری شخص نے بتایا کہ دنیاوی زندگی ترک کرکے روحانی راستہ اختیار کرنے کا خیال ان کے ذہن میں اچانک نہیں آیا۔ وہ تقریباً 15 سال سے اس منصوبے پر غور کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ کاروبار، دولت اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے الگ ہونے کے بعد وہ اپنی زندگی کو زیادہ سادہ اور روحانی انداز میں گزارنا چاہتے ہیں۔ اسی مقصد کے تحت کمپنی فروخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ وہ اپنی آئندہ زندگی کے لیے ایک مستقل اور پرسکون ماحول تیار کرسکیں۔

ان کے منصوبے کے مطابق کمپنی کی فروخت کے بعد فوری طور پر راہب بننے کے بجائے وہ اگلے تقریباً دو برس کے دوران ایک مناسب جگہ تلاش کرکے وہاں زمین خریدنا چاہتے ہیں۔

جنگل میں مراقبہ گاہ بنانے کا منصوبہ

کاروباری شخص نے بتایا کہ ان کی خواہش ہے کہ خریدی جانے والی زمین پر جنگل کے ماحول میں ایک مراقبہ گاہ قائم کی جائے۔ ان کے مطابق یہ جگہ مستقبل میں ان کی روحانی زندگی کا مرکز ہوگی، جہاں وہ دنیاوی سرگرمیوں سے دور رہ کر مراقبہ اور بدھ مت کی تعلیمات پر توجہ مرکوز کرسکیں گے۔

ان کا منصوبہ ہے کہ اس مرحلے کی تکمیل کے بعد وہ باضابطہ طور پر بدھ راہب کی حیثیت سے زندگی گزاریں۔ اس طرح ایک کامیاب کاروباری شخصیت سے روحانی زندگی کی طرف ان کا سفر مکمل ہوگا۔

یہ فیصلہ اس لیے بھی غیر معمولی سمجھا جارہا ہے کہ کاروباری شخص کئی دہائیوں سے قائم اپنے کاروبار اور اس سے وابستہ اثاثوں کو ایک بڑی رقم کے عوض چھوڑنے کے لیے تیار ہیں، جبکہ عام طور پر کامیاب کاروباری افراد اپنی کمپنیوں کو مزید وسعت دینے یا ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کاروباری سرگرمیوں سے جڑے رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

خاندان سے بھی فاصلہ اختیار کرنے کا ارادہ

کاروباری شخص کے منصوبے کا ایک اور اہم پہلو ان کی ذاتی زندگی سے متعلق ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ راہب بننے کے بعد وہ اپنی بیوی اور بیٹی سمیت دیگر قریبی افراد سے رابطہ ختم کرنا چاہتے ہیں۔

ان کے مطابق روحانی زندگی اختیار کرنے کا مقصد دنیاوی تعلقات اور مادی وابستگیوں سے خود کو الگ کرنا ہے۔ اسی وجہ سے وہ مستقبل میں اپنے خاندانی اور سماجی روابط کو محدود یا ختم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

یہ فیصلہ ان کے خاندان کے لیے بھی ایک بڑی تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے، کیونکہ کاروباری زندگی سے مکمل طور پر کنارہ کشی اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ قریبی رشتوں سے دوری اختیار کرنا بھی ان کے منصوبے کا حصہ بتایا گیا ہے۔

’ارہنت‘ بننے کی خواہش

اس کاروباری شخص نے اپنی زندگی کے آخری روحانی مقصد کے حوالے سے بھی بات کی ہے۔ ان کے مطابق وہ بدھ مت کی اصطلاح میں “ارہنت” (Arahant) یعنی روحانی نجات کی ایک اعلیٰ حالت حاصل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

بدھ مت کی روایات میں ارہنت سے مراد ایسی روحانی منزل سمجھی جاتی ہے جہاں انسان خواہشات اور دنیاوی وابستگیوں سے نجات کی بلند سطح حاصل کرتا ہے۔ کاروباری شخص کا کہنا ہے کہ وہ اپنی آئندہ زندگی کو اسی روحانی مقصد کے حصول کے لیے وقف کرنا چاہتے ہیں۔

37 سالہ کاروباری سفر کا اختتام

Hawell’s کے کاروبار کو فروخت کرنے کی پیشکش میں صرف کمپنی کا نام یا کاروباری برانڈ شامل نہیں بلکہ اس کے ساتھ متعدد اہم اثاثے بھی شامل ہیں۔ ان میں زمین، دفتر، فیکٹری، مشینری، کاروباری لائسنس، ٹریڈ مارک اور آئس کریم کی مصنوعات کے فارمولے شامل ہیں۔

خاص طور پر آئس کریم کے وہ فارمولے بھی کاروباری معاہدے کا حصہ ہیں جو تقریباً 37 سال کے عرصے میں تیار کیے گئے۔ اس طرح کمپنی کی فروخت ایک طویل کاروباری سفر کے اختتام کی حیثیت رکھتی ہے۔

165 ملین بھات کی قیمت پر پیش کی جانے والی یہ کمپنی اس کاروباری شخص کی کئی دہائیوں کی محنت اور تجربے کی نمائندگی کرتی ہے۔ تاہم ان کے مطابق اب ان کی ترجیحات تبدیل ہوچکی ہیں اور وہ کاروباری کامیابی کے بجائے روحانی سکون اور نجات کو اپنی زندگی کا اگلا مقصد بنانا چاہتے ہیں۔

کاروبار سے روحانیت تک منفرد سفر

تھائی کاروباری شخص کی کہانی نے اس لیے بھی توجہ حاصل کی ہے کہ انہوں نے دولت اور کاروباری کامیابی کے عروج پر ایک مختلف راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جہاں کئی افراد مالی استحکام کو مزید کاروباری ترقی کے لیے استعمال کرتے ہیں، وہیں اس شخص نے اپنی زندگی کا اگلا مرحلہ دنیاوی سرگرمیوں سے دور گزارنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا Hawell’s کو 165 ملین بھات میں کوئی خریدار مل پاتا ہے اور کاروباری شخص اپنے منصوبے کے مطابق جنگل میں مراقبہ گاہ قائم کرکے بدھ راہب کی زندگی اختیار کرپاتے ہیں یا نہیں۔ اگر ان کا منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو یہ ایک کامیاب کاروباری سفر کے بعد روحانی زندگی کی طرف منتقلی کی ایک غیر معمولی مثال ہوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *