اسلام آباد: پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں پیش آنے والے واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے قائم انکوائری کمیٹی نے ہسپتال انتظامیہ کے اعلیٰ افسران سے تفصیلی جواب طلب کرلیا ہے۔
انکوائری کمیٹی کے چیئرمین نے پمز کے جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت 4 اعلیٰ افسران کو تحریری بیانات جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔ افسران سے واقعے کے مختلف پہلوؤں، ممکنہ وجوہات اور انتظامی معاملات سے متعلق وضاحت مانگی گئی ہے۔
پمز واقعے کی اصل وجہ کیا تھی؟
انکوائری کمیٹی نے متعلقہ افسران سے واضح طور پر دریافت کیا ہے کہ پمز میں پیش آنے والے واقعے کی بنیادی وجہ کیا تھی اور اس کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما تھے۔
افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے تحریری بیانات میں واقعے سے متعلق مکمل معلومات فراہم کریں تاکہ انکوائری کمیٹی حقائق کا جائزہ لے کر کسی نتیجے تک پہنچ سکے۔
کمیٹی کی جانب سے صرف واقعے کی وجوہات ہی نہیں بلکہ انتظامی سطح پر کیے گئے اقدامات اور موجودہ صورتحال سے متعلق بھی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔
4 افسران کو تحریری بیان جمع کرانے کا حکم
پمز انتظامیہ کے جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت چار افسران کو تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ان افسران سے کہا گیا ہے کہ وہ واقعے سے متعلق اپنی معلومات اور مؤقف انکوائری کمیٹی کے سامنے تحریری طور پر پیش کریں۔
کمیٹی کا مقصد واقعے کے تمام متعلقہ پہلوؤں کا جائزہ لینا اور یہ معلوم کرنا ہے کہ واقعہ کن حالات میں پیش آیا۔ اس سلسلے میں انتظامی ذمہ داریوں، حفاظتی اقدامات اور واقعے کے بعد کیے گئے اقدامات سے متعلق بھی معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔
مستقبل کے لائحہ عمل پر بھی جواب طلب
انکوائری کمیٹی نے افسران سے مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے بھی وضاحت طلب کی ہے۔ حکام سے پوچھا گیا ہے کہ مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں اور ہسپتال میں حفاظتی انتظامات کو کس طرح مزید مؤثر بنایا جائے گا۔
اس پہلو کو انکوائری میں اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ کسی بھی بڑے ہسپتال میں مریضوں، تیمارداروں، ڈاکٹرز، نرسنگ اسٹاف اور دیگر ملازمین کی حفاظت کے لیے مؤثر انتظامات بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
کمیٹی کی جانب سے حاصل کیے جانے والے تحریری بیانات کو واقعے کی مکمل تحقیقات کے سلسلے میں اہم دستاویزات تصور کیا جا رہا ہے۔ ان بیانات کی روشنی میں واقعے کے اسباب اور انتظامی پہلوؤں کا مزید جائزہ لیا جائے گا۔
صبح 8 بجے تک بیان جمع کرانے کی ہدایت
پمز انتظامیہ کے متعلقہ افسران کو آج صبح 8 بجے تک اپنے تحریری بیانات انکوائری کمیٹی کو جمع کرانے کا حکم دیا گیا تھا۔
افسران سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے جوابات میں واقعے کی وجوہات، پیش آنے والے حالات، متعلقہ انتظامی معاملات اور آئندہ کے لیے مجوزہ اقدامات سے متعلق مکمل تفصیلات فراہم کریں۔
انکوائری کا اگلا مرحلہ
انکوائری کمیٹی کی جانب سے افسران کے بیانات موصول ہونے کے بعد واقعے سے متعلق مزید شواہد اور معلومات کا جائزہ لیے جانے کا امکان ہے۔ کمیٹی تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے حقائق کی بنیاد پر اپنی رپورٹ تیار کرے گی۔
فی الحال انکوائری کا مرکزی نکتہ یہ جاننا ہے کہ پمز میں پیش آنے والا واقعہ کن حالات میں پیش آیا، اس کی بنیادی وجہ کیا تھی اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے انتظامیہ کو کن اقدامات کی ضرورت ہے۔
