آبنائے ہرمز کو عالمی تجارت کے خلاف دباؤ کا ذریعہ نہیں بننے دیں گے، امریکی وزیر خزانہ
واشنگٹن: امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ایران کو آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی تجارت اور بین الاقوامی معیشت پر دباؤ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق اسکاٹ بیسنٹ نے بحرین کے وزیر خزانہ شیخ سلمان بن خلیفہ آل خلیفہ سے رابطہ کیا، جس میں ایران کے خلاف جاری امریکی اقتصادی اقدامات، مالیاتی دباؤ اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایران پر اقتصادی دباؤ برقرار رکھنے پر زور
گفتگو کے دوران امریکی وزیر خزانہ نے ایران سے متعلق نئی امریکی اقتصادی حکمت عملی اور Operation Economic Outcast کے حوالے سے بھی بات کی۔ امریکی محکمہ خزانہ نے 24 اگست کو اس مہم کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے ایران سے منسلک مالیاتی نیٹ ورکس، آمدنی کے ذرائع اور پابندیوں سے بچنے میں مدد دینے والے عناصر کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیا تھا۔
بیسنٹ کے مطابق واشنگٹن ایران کے مالی وسائل محدود کرنے کے لیے اقتصادی دباؤ جاری رکھے گا۔ امریکی مؤقف ہے کہ ایران سے متعلق مالیاتی سرگرمیوں میں سہولت فراہم کرنے والے افراد اور اداروں کو بھی پابندیوں کے خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے۔
آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟
آبنائے ہرمز خلیج فارس اور بحیرہ عمان کے درمیان واقع ایک اہم بحری گزرگاہ ہے، جس کے ذریعے عالمی توانائی کی تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس راستے پر بحری آمدورفت متاثر ہونے کی صورت میں عالمی تیل و گیس کی سپلائی، توانائی کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر اثر پڑنے کا خدشہ رہتا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ پہلے بھی آبنائے ہرمز سے متعلق ایران کی مبینہ سرگرمیوں پر کارروائی کرچکا ہے۔ جولائی 2026 میں امریکی حکام نے ایران سے منسلک ایسے نیٹ ورکس کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا جن پر تجارتی جہازوں سے متعلق مالی فوائد حاصل کرنے کی کوششوں کے الزامات عائد کیے گئے۔
امریکا اور خلیجی ممالک کے درمیان تعاون
امریکی وزیر خزانہ اور بحرینی حکام کے درمیان رابطے میں مالیاتی تعاون اور خطے کی اقتصادی سلامتی پر بھی زور دیا گیا۔ واشنگٹن ایران سے متعلق غیر قانونی مالی سرگرمیوں اور پابندیوں سے بچنے کے طریقوں کو روکنے کے لیے خلیجی شراکت داروں کے ساتھ تعاون بڑھانے پر توجہ دے رہا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ایران سے متعلق مالیاتی نیٹ ورکس، تیل کی آمدنی اور پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال ہونے والے ذرائع کو محدود کرنا واشنگٹن کی موجودہ اقتصادی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔
خطے میں بڑھتی کشیدگی
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں آبنائے ہرمز ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ امریکا کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل کو متاثر کرنے والی سرگرمیوں کے خلاف اقتصادی اور دیگر اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز سے متعلق کسی بھی پیش رفت پر عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت کی جانب سے گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
