کراچی: شہر کے ملیر سٹی تھانے کی حدود میں ایک انتہائی افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں جھاڑیوں سے تین بوریوں میں بند ایک شخص کی لاش کے اعضا برآمد ہوئے ہیں۔ پولیس کے مطابق مقتول کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی، تاہم ابتدائی معلومات کی بنیاد پر اس کی عمر تقریباً 27 سے 28 سال کے درمیان معلوم ہوتی ہے۔ واقعے کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرکے مختلف پہلوؤں سے تفتیش شروع کردی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق واقعہ ملیر سٹی تھانے کی حدود میں باون شاہ روڈ کے قریب مائی ستی مزار روڈ کے کنارے جھاڑیوں میں پیش آیا۔ پولیس کو اطلاع ملی کہ سڑک کے اطراف مشکوک حالت میں تین بوریاں موجود ہیں، جس کے بعد پولیس ٹیم فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچی۔

اطلاع ملنے پر سب انسپکٹر صداقت علی کی سربراہی میں پولیس اہلکار موقع پر پہنچے، جبکہ واقعے کی نوعیت کے پیش نظر ایمبولینس اور کرائم سین یونٹ کو بھی طلب کیا گیا۔ پولیس نے جائے وقوعہ کو محفوظ بنایا اور شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کیا۔

تین بوریوں سے انسانی اعضا برآمد

پولیس کے مطابق موقع پر موجود تینوں بوریوں کا معائنہ کیا گیا تو ان کے اندر انسانی جسم کے مختلف حصے موجود تھے۔ کرائم سین یونٹ نے بوریوں کو کھول کر شواہد اکٹھے کیے اور لاش کے اعضا کو قانونی کارروائی کے لیے تحویل میں لے لیا۔

پولیس رپورٹ کے مطابق پہلی بوری سے مقتول کا سر برآمد ہوا، جس پر شدید نوعیت کے زخموں کے نشانات موجود تھے۔ ابتدائی معائنے میں چہرے کے بعض حصے بھی متاثر حالت میں پائے گئے۔ دوسری بوری سے جسم کا درمیانی حصہ ملا، جبکہ تیسری بوری میں جسم کے نچلے حصے اور دیگر اعضا موجود تھے۔

حکام کے مطابق واقعے کی نوعیت انتہائی حساس ہونے کے باعث کرائم سین یونٹ نے جائے وقوعہ سے ممکنہ شواہد محفوظ کیے ہیں۔ پولیس اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ مقتول کو کہاں قتل کیا گیا اور بعد ازاں اس کے جسم کے اعضا کو بوریوں میں بند کرکے یہاں کیوں پھینکا گیا۔

مقدمہ درج، تفتیش کا آغاز

ملیر سٹی پولیس نے واقعے کا مقدمہ ایف آئی آر نمبر 638/26 کے تحت درج کرلیا ہے۔ مقدمہ سب انسپکٹر صداقت علی کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق مقدمے کے اندراج کے بعد واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔ تفتیشی ٹیم اس بات کا سراغ لگانے کی کوشش کررہی ہے کہ مقتول کون تھا، اس کا تعلق کس علاقے سے تھا اور اسے کن حالات میں قتل کیا گیا۔

پولیس کے لیے مقتول کی شناخت اس کیس میں سب سے اہم مرحلہ قرار دیا جارہا ہے، کیونکہ شناخت ہونے کے بعد تفتیش کو مزید آگے بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔ حکام کے مطابق لاش کے کوائف حاصل کرلیے گئے ہیں اور ممکنہ طور پر شناخت کے لیے دستیاب ریکارڈ اور دیگر ذرائع سے بھی مدد لی جائے گی۔

جناح اسپتال منتقل، پوسٹ مارٹم مکمل

جائے وقوعہ سے انسانی اعضا برآمد ہونے کے بعد پولیس نے قانونی کارروائی مکمل کی اور لاش کو جناح اسپتال منتقل کیا۔ پولیس کی جانب سے میڈیکو لیگل افسر کو بھی ضروری کارروائی کے لیے خط ارسال کیا گیا۔

پولیس حکام کے مطابق مقتول کا پوسٹ مارٹم مکمل کرلیا گیا ہے اور اس حوالے سے ضروری کوائف بھی حاصل کیے جاچکے ہیں۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ سے قتل کے طریقہ کار اور ممکنہ وجہ موت کے حوالے سے تفتیشی ٹیم کو مزید معلومات ملنے کی توقع ہے۔

تاہم پولیس نے فوری طور پر پوسٹ مارٹم سے متعلق تمام تفصیلات عام نہیں کیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے اور فرانزک و میڈیکو لیگل شواہد سامنے آنے کے بعد ہی واقعے کے بارے میں زیادہ واضح معلومات فراہم کی جاسکیں گی۔

مقتول کی شناخت تاحال ایک بڑا سوال

پولیس کے مطابق مقتول کی شناخت اب تک نہیں ہوسکی ہے۔ ابتدائی اندازے کے مطابق مقتول کی عمر 27 سے 28 سال کے درمیان ہوسکتی ہے۔ تفتیشی حکام اس عمر کے ممکنہ لاپتا افراد کے ریکارڈ کا بھی جائزہ لے سکتے ہیں تاکہ مقتول کی شناخت میں مدد مل سکے۔

مقتول کی شناخت نہ ہونے کے باعث پولیس کے سامنے یہ بھی ایک اہم سوال ہے کہ وہ کہاں کا رہائشی تھا اور اس کے اہل خانہ یا قریبی افراد کون ہیں۔ پولیس مختلف ذرائع سے معلومات اکٹھی کررہی ہے تاکہ مقتول کے بارے میں کوئی سراغ حاصل کیا جاسکے۔

حکام کے مطابق شناخت کے لیے مقتول کے کوائف، فرانزک شواہد اور دیگر دستیاب معلومات کو استعمال کیا جائے گا۔ اگر مقتول کی شناخت ہوجاتی ہے تو پولیس اس کے ماضی، رابطوں، رہائش، روزمرہ معمولات اور حالیہ سرگرمیوں کا جائزہ لے کر قتل کے محرکات تک پہنچنے کی کوشش کرے گی۔

قتل کہاں کیا گیا؟ پولیس کی تحقیقات جاری

ابتدائی تفتیش میں پولیس اس امکان کا جائزہ لے رہی ہے کہ مقتول کو کسی دوسرے مقام پر قتل کرنے کے بعد اس کے اعضا کو بوریوں میں ڈال کر ملیر کے علاقے میں پھینکا گیا۔ تاہم اس حوالے سے حتمی نتیجہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آسکے گا۔

تفتیشی حکام جائے وقوعہ کے علاوہ دیگر ممکنہ مقامات سے بھی شواہد اکٹھے کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ علاقے میں موجود سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ، مشکوک نقل و حرکت اور واقعے سے قبل و بعد کے حالات کا جائزہ بھی تفتیش کا حصہ ہوسکتا ہے۔

پولیس اس بات کا بھی تعین کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ تینوں بوریاں جائے وقوعہ تک کس طرح پہنچائی گئیں۔ اگر کسی گاڑی یا دیگر ذریعے کے استعمال کا سراغ ملتا ہے تو اس سے ملزمان تک پہنچنے میں مدد حاصل ہوسکتی ہے۔

قتل کی وجہ بھی معلوم نہیں ہوسکی

پولیس کے مطابق فی الحال قتل کی اصل وجہ واضح نہیں ہے۔ مقدمے میں نامعلوم ملزمان کے خلاف کارروائی شروع کی گئی ہے جبکہ تفتیشی ٹیم مختلف ممکنہ وجوہات کا جائزہ لے رہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے قبل تمام شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لینا ضروری ہے۔ قتل کی وجہ ذاتیدشمنی، کسی تنازع یا کسی دوسرے معاملے سے متعلق ہے یا نہیں، اس بارے میں فی الحال کوئی حتمی بات سامنے نہیں آئی۔

پولیس نے واقعے کے حوالے سے مزید تحقیقات جاری رکھی ہوئی ہیں اور کوشش کی جارہی ہے کہ مقتول کی شناخت کے ساتھ ساتھ قتل میں ملوث افراد کا بھی سراغ لگایا جائے۔

شہریوں میں تشویش

ملیر کے علاقے میں اس نوعیت کا واقعہ سامنے آنے کے بعد مقامی سطح پر بھی تشویش پائی جارہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات سے علاقے میں خوف کی فضا پیدا ہوسکتی ہے، اس لیے پولیس کو واقعے کی شفاف اور مکمل تحقیقات کرکے ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانا چاہیے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات کی جارہی ہیں اور شواہد کی بنیاد پر کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔ شہریوں سے بھی اپیل کی جاسکتی ہے کہ اگر کسی شخص کے لاپتا ہونے یا مشکوک سرگرمی کے حوالے سے کوئی معلومات ہوں تو وہ پولیس کے ساتھ شیئر کریں تاکہ تحقیقات میں مدد مل سکے۔

فی الحال اس کیس میں سب سے اہم پیش رفت مقتول کی شناخت اور فرانزک شواہد کا حصول ہوگی۔ پولیس نے مقدمہ درج کرلیا ہے، پوسٹ مارٹم مکمل ہوچکا ہے اور مزید قانونی و تفتیشی کارروائی جاری ہے۔ جیسے جیسے تحقیقات آگے بڑھیں گی، قتل کی وجہ، مقتول کی شناخت اور ممکنہ  ملزمان کے بارے میں مزید معلومات سامنے آنے کی توقع ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *