سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اس ویڈیو کو بعض صارفین نے حقیقی واقعہ سمجھ کر شیئر کیا، جبکہ کچھ پوسٹس میں اسے ٹرمپ سے متعلق ایک دلچسپ اور غیر معمولی واقعے کے طور پر پیش کیا گیا۔ ویڈیو میں دکھائی دینے والا منظر بظاہر اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ دیکھنے والے کو محسوس ہو کہ خاتون کے جسم پر موجود ایک مخصوص بٹن کا تعلق براہِ راست امریکی صدر سے ہے۔
تاہم دستیاب فیکٹ چیک معلومات کے مطابق یہ دعویٰ درست نہیں۔ ویڈیو میں نظر آنے والا منظر کسی حقیقی واقعے کی عکاسی نہیں کرتا بلکہ مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ مواد کو ایک پرانے سوشل میڈیا مذاق یا میم کے ساتھ ملا کر دوبارہ پیش کیا گیا ہے۔
وائرل ویڈیو کی حقیقت کیا ہے؟
فیکٹ چیک کے دوران سامنے آنے والی معلومات کے مطابق ویڈیو میں دکھائی دینے والی خاتون اور ’بٹن‘ والا منظر حقیقی زندگی میں پیش آنے والے کسی واقعے کی ویڈیو نہیں ہے۔ اس مواد کو مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کیا گیا، جس کے بعد اسے ایک پرانے انٹرنیٹ میم کے تناظر میں استعمال کرکے سوشل میڈیا پر دوبارہ پھیلایا گیا۔
ڈیجیٹل دور میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے تصاویر، ویڈیوز اور آوازیں تیار کرنا پہلے کی نسبت کہیں زیادہ آسان ہوچکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عام صارف کے لیے کسی وائرل ویڈیو کو صرف دیکھ کر یہ اندازہ کرنا مشکل ہوسکتا ہے کہ وہ حقیقی ہے یا مصنوعی طریقے سے تیار کی گئی ہے۔
حالیہ برسوں میں ایسے متعدد AI-generated مواد نے سوشل میڈیا پر لوگوں کی توجہ حاصل کی ہے۔ بعض اوقات مزاحیہ مقصد کے لیے بنائی گئی ویڈیو اتنی حقیقت کے قریب ہوتی ہے کہ صارفین اسے اصل واقعہ سمجھ لیتے ہیں۔ بعد میں یہی مواد مختلف صفحات اور اکاؤنٹس کے ذریعے بغیر تصدیق کے دوبارہ شیئر ہوتا رہتا ہے۔
پرانے میم کو نئی شکل دی گئی
فیکٹ چیک کے مطابق ٹرمپ سے متعلق یہ وائرل مواد مکمل طور پر نیا نہیں بلکہ ایک پرانے سوشل میڈیا مذاق سے جڑا ہوا ہے۔ پرانے میم کے تصور کو مصنوعی ذہانت سے تیار کیے گئے نئے بصری مواد کے ساتھ جوڑ کر اسے موجودہ حالات سے متعلق دکھانے کی کوشش کی گئی۔
اس طرح کے مواد میں عموماً ایک ایسا منظر تخلیق کیا جاتا ہے جو دیکھنے میں غیر معمولی ہونے کے باوجود پہلی نظر میں حقیقی محسوس ہوتا ہے۔ پھر اس پر دلچسپ کیپشن یا دعویٰ شامل کرکے اسے سوشل میڈیا پر پھیلا دیا جاتا ہے۔
وائرل ویڈیو کے معاملے میں بھی ’ٹرمپ کو جگانے والے بٹن‘ کا تصور صارفین کے لیے ایک مزاحیہ اور حیران کن دعوے کے طور پر پیش کیا گیا، جس کے باعث ویڈیو کو تیزی سے شیئر کیا گیا۔
مصنوعی ذہانت سے بننے والی ویڈیوز کا بڑھتا رجحان
مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی نے جہاں معلومات، تعلیم، تحقیق اور تخلیقی شعبوں میں نئے مواقع پیدا کیے ہیں، وہیں اس کے غلط استعمال سے گمراہ کن مواد کا مسئلہ بھی بڑھا ہے۔ اب ایسی ویڈیوز تیار کرنا ممکن ہے جن میں کسی حقیقی شخص کو ایسے الفاظ کہتے یا ایسے کام کرتے دکھایا جاسکتا ہے جو اس شخص نے حقیقت میں نہیں کیے ہوتے۔
اسی وجہ سے سوشل میڈیا صارفین کے لیے ضروری ہوگیا ہے کہ وہ کسی بھی حیران کن ویڈیو کو فوری طور پر سچ نہ سمجھیں۔ خصوصاً جب کسی معروف شخصیت، سیاسی رہنما یا عالمی سطح پر مقبول فرد کے بارے میں غیر معمولی دعویٰ سامنے آئے تو اس کی تصدیق معتبر ذرائع سے کرنا زیادہ اہم ہوجاتا ہے۔
ٹرمپ دنیا کی نمایاں سیاسی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، اس لیے ان کے حوالے سے بننے والا مواد بہت تیزی سے عالمی سطح پر پھیل سکتا ہے۔ ان کی مقبولیت اور سیاسی سرگرمیوں کے باعث سوشل میڈیا پر ان سے متعلق حقیقی خبروں کے ساتھ ساتھ طنزیہ، مزاحیہ اور مصنوعی مواد بھی بڑی تعداد میں گردش کرتا رہتا ہے۔
وائرل مواد پر فوراً یقین کیوں نہیں کرنا چاہیے؟
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کسی ویڈیو کا وائرل ہونا اس بات کا ثبوت نہیں کہ اس میں دکھائی جانے والی معلومات درست بھی ہیں۔ اکثر اوقات دلچسپ، حیران کن یا متنازع مواد کو زیادہ توجہ ملتی ہے، جس کی وجہ سے صارفین اسے بغیر تحقیق کے دوسروں تک پہنچا دیتے ہیں۔
ماہرین ڈیجیٹل میڈیا کے مطابق کسی بھی وائرل دعوے کی جانچ کے لیے سب سے پہلے اس کے اصل ماخذ کا جائزہ لینا چاہیے۔ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ویڈیو سب سے پہلے کس اکاؤنٹ یا پلیٹ فارم سے سامنے آئی، کیا کسی معتبر نیوز ادارے نے اس واقعے کی آزادانہ تصدیق کی ہے اور کیا ویڈیو میں موجود مناظر کے بارے میں اضافی معلومات دستیاب ہیں۔
اسی طرح ویڈیو کے مختلف حصوں، آواز، چہرے کے تاثرات اور پس منظر کو بھی غور سے دیکھنا چاہیے، کیونکہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد میں بعض اوقات معمولی بصری یا صوتی خامیاں موجود ہوتی ہیں۔ اگرچہ جدید AI ٹیکنالوجی ان خامیوں کو بھی کم کررہی ہے، اس لیے صرف ظاہری شکل کی بنیاد پر فیصلہ کرنا کافی نہیں۔
فیکٹ چیک سے کیا نتیجہ نکلا؟
وائرل ’ٹرمپ بٹن‘ ویڈیو کے حوالے سے فیکٹ چیک کا بنیادی نتیجہ یہی ہے کہ اسے کسی حقیقی واقعے کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔ ویڈیو میں دکھایا گیا منظر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد پر مبنی ہے اور اسے ایک پرانے سوشل میڈیا مذاق سے جوڑ کر دوبارہ گردش میں لایا گیا۔
لہٰذا اس دعوے میں کوئی حقیقت نہیں کہ کسی خاتون کے جسم پر واقعی ایسا بٹن موجود تھا جسے دبانے سے ٹرمپ کو جگایا جاسکتا ہے۔ یہ مواد بنیادی طور پر مزاحیہ اور مصنوعی نوعیت کا ہے، جسے سوشل میڈیا پر حقیقت سے جوڑ کر پیش کیا گیا۔
یہ واقعہ ایک مرتبہ پھر اس بات کی اہمیت اجاگر کرتا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں وائرل اور مستند خبر کے درمیان فرق کرنا انتہائی ضروری ہے۔ صارفین کو چاہیے کہ وہ غیر معمولی دعووں کو آگے بڑھانے سے پہلے ان کی تصدیق کریں اور ایسے مواد کو شیئر کرنے سے گریز کریں جس کے اصل ماخذ یا صداقت کے بارے میں واضح معلومات دستیابنہہوں۔
