جاپان میں گرمی کا انوکھا حل، پنکھوں والی شرٹ متعارف

ٹوکیو: جاپان میں شدید گرمی اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث روزمرہ زندگی میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اسی سلسلے میں ایک جاپانی کمپنی نے روایتی لباس کو جدید کولنگ ٹیکنالوجی سے جوڑتے ہوئے ایسی آدھی آستینوں والی شرٹ متعارف کرائی ہے جس میں چھوٹے پنکھے نصب کیے گئے ہیں۔ یہ پنکھے لباس کے اندر ہوا کی گردش پیدا کرتے ہیں، جس سے پہننے والے کو گرمی کے دوران نسبتاً ٹھنڈا رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

ملبوسات تیار کرنے والی جاپانی کمپنی یوفوکو نو آویاما نے یہ جدید شرٹ ایئر کولڈ ملبوسات تیار کرنے والی کمپنی ایف زیڈ این کے تعاون سے تیار کی ہے۔ بظاہر عام اور سادہ نظر آنے والی اس شرٹ میں ایک ایسا کولنگ سسٹم شامل کیا گیا ہے جو اسے روایتی لباس سے مختلف بناتا ہے۔

شرٹ کے پچھلے حصے میں کمر کے قریب کولنگ سسٹم کا ایک حصہ نصب کیا گیا ہے، جہاں دو چھوٹے پنکھے موجود ہیں۔ یہ پنکھے باہر کی ہوا کو لباس کے اندر کھینچتے ہیں اور پھر اسے جسم کے اردگرد گردش دیتے ہیں۔ اس عمل کے نتیجے میں کپڑے کے اندر ہوا کا بہاؤ پیدا ہوتا ہے جو گرمی میں جسم کو ٹھنڈا رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

کمپنی نے شرٹ میں ری چارج ایبل بیٹری بھی شامل کی ہے تاکہ پنکھوں کو بجلی فراہم کی جا سکے۔ ڈیزائنرز کی کوشش رہی ہے کہ پورے کولنگ سسٹم کو ممکنہ حد تک ہلکا رکھا جائے تاکہ شرٹ پہننے والے کو غیر ضروری وزن محسوس نہ ہو اور لباس روزمرہ استعمال کے لیے قابلِ عمل رہے۔

رپورٹس کے مطابق شرٹ میں نصب ہر پنکھے کا وزن تقریباً 95 گرام ہے جبکہ بیٹری پیک کا وزن تقریباً 165 گرام بتایا گیا ہے۔ اگرچہ شرٹ کو پیچھے سے دیکھنے پر پنکھوں کی موجودگی نمایاں محسوس ہو سکتی ہے، تاہم ڈیزائن میں اس بات کا خیال رکھا گیا ہے کہ سامنے یا دیگر زاویوں سے یہ ٹیکنالوجی زیادہ نمایاں نہ ہو۔

اس ڈیزائن کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہے کہ ایئر کولنگ شرٹ کو صرف محنت طلب کاموں یا بیرونی سرگرمیوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے دفتری ماحول میں بھی استعمال کیا جا سکے۔ روایتی ایئر کولڈ جیکٹس یا ویسٹس کے مقابلے میں آدھی آستینوں والی شرٹ کو نسبتاً رسمی انداز میں تیار کیا گیا ہے تاکہ اسے دفتری لباس کے ساتھ بھی پہنا جا سکے۔

جاپان میں پنکھوں سے لیس ایئر کولڈ ملبوسات کوئی بالکل نئی ایجاد نہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے ایسے کپڑے مختلف شعبوں میں کام کرنے والے افراد استعمال کر رہے ہیں۔ خصوصاً تعمیراتی کارکن، صفائی کے عملے، کچرا اٹھانے والے ورکرز اور ایونٹ سکیورٹی سے وابستہ افراد شدید گرمی میں ایسے لباس استعمال کرتے رہے ہیں۔

تاہم پہلے یہ ٹیکنالوجی زیادہ تر جیکٹس یا ویسٹس کی شکل میں دستیاب تھی، جنہیں رسمی یا دفتری لباس کا حصہ سمجھنا مشکل تھا۔ نئی شرٹ کی تیاری کے ذریعے اس ٹیکنالوجی کو عام شہریوں اور دفتری ملازمین کے لیے بھی زیادہ قابل قبول بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

جاپان سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں موسم کی شدت اور گرمی کی لہروں کے باعث شہریوں کو روزمرہ معمولات کے دوران شدید گرمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایسے حالات میں ایئر کنڈیشننگ کے علاوہ جسم کو ٹھنڈا رکھنے کے متبادل طریقوں پر بھی توجہ بڑھ رہی ہے۔ پنکھوں والی شرٹ اسی رجحان کا ایک جدید نمونہ قرار دی جا سکتی ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ لباس خاص طور پر ان افراد کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے جو دن کے دوران بار بار باہر آتے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک دفتری ملازم اگر میٹنگ کے لیے ایک عمارت سے دوسری عمارت تک پیدل جائے، پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرے یا دھوپ میں کچھ وقت گزارے تو شرٹ میں موجود کولنگ سسٹم اسے گرمی کے اثرات سے کسی حد تک محفوظ رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ میٹنگ روم یا دیگر مکمل ایئر کنڈیشنڈ جگہوں پر اس ٹیکنالوجی کی ضرورت نسبتاً کم محسوس ہوگی، تاہم عمارت سے باہر نکلنے کے بعد صورتحال مختلف ہو سکتی ہے۔ اسی لیے اس شرٹ کا بنیادی مقصد ایسے اوقات میں اضافی ٹھنڈک فراہم کرنا ہے جب انسان کو شدید گرمی اور حبس کا سامنا ہو۔

نئی شرٹ کی ایک اور خاص بات اس کا نسبتاً رسمی ڈیزائن ہے۔ عام طور پر کولنگ فین والے لباس کو صنعتی کاموں کے لیے مخصوص سمجھا جاتا ہے، لیکن اس نئی شرٹ کو اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ اسے دفتری یا نیم رسمی لباس کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکے۔

تاہم اس ٹیکنالوجی کے حوالے سے کچھ سوالات بھی موجود ہیں۔ مثال کے طور پر پنکھوں سے پیدا ہونے والے شور کی شدت کے بارے میں کمپنی کی جانب سے فی الحال کوئی واضح تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ اسی طرح لباس کی بیٹری کتنے گھنٹے تک مسلسل کولنگ فراہم کر سکتی ہے، یہ بھی صارفین کے لیے ایک اہم سوال ہو سکتا ہے۔

اس کے باوجود پنکھوں والی شرٹ اس بات کی مثال ہے کہ بڑھتی ہوئی گرمی کے باعث ٹیکنالوجی کس طرح روزمرہ زندگی کے معمولی سے معمولی حصے میں بھی شامل ہو رہی ہے۔ مستقبل میں ممکن ہے کہ ایسے کولنگ سسٹم مزید ہلکے، خاموش اور طاقتور بنائے جائیں اور انہیں مختلف اقسام کے لباس میں شامل کیا جائے۔

جاپان میں متعارف کرائی جانے والی یہ شرٹ اس رجحان کی ایک دلچسپ مثال ہے جس میں فیشن، آرام اور ٹیکنالوجی کو ایک ہی لباس میں یکجا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگر اس طرح کے ملبوسات عام صارفین میں مقبول ہوتے ہیں تو شدید گرمی میں باہر نکلنے والے افراد کے لیے یہ روایتی لباس کے مقابلے میں ایک نیا اور ٹیکنالوجی پر مبنی متبادل ثابت ہو سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *