کراچی کے علاقے بنارس پل کے قریب پیش آنے والے ایک افسوسناک ٹریفک حادثے میں جان کی بازی ہارنے والے 24 سالہ نوجوان فیضان کے والد نے اپنے بیٹے کی ہلاکت کے معاملے پر قانونی چارہ جوئی کرتے ہوئے 13 کروڑ روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کر دیا ہے۔ یہ دعویٰ سینئر سول جج (غربی) کی عدالت میں جمع کرایا گیا، جس میں ٹرالر کے ڈرائیور حفیظ اللہ اور گاڑی کے مالک گلفراز خان کو فریق بنایا گیا ہے۔
عدالت میں جمع کرائی گئی درخواست کے مطابق حادثہ 11 محرم کو اس وقت پیش آیا جب فیضان اپنے کزن کے ہمراہ حسین آباد سے واپس گھر جا رہا تھا۔ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ راستے میں ایک تیز رفتار ٹرالر نے مبینہ طور پر بے احتیاطی اور غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نوجوان کو ٹکر مار دی، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوا اور جانبر نہ ہو سکا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اگر گاڑی احتیاط سے چلائی جاتی اور ٹریفک قوانین کی پابندی کی جاتی تو اس افسوسناک واقعے سے بچا جا سکتا تھا۔
مرحوم فیضان کے والد محمد سرفراز نے عدالت کو بتایا کہ ان کے بیٹے کی اچانک موت نے پورے خاندان کو شدید صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ ان کے مطابق فیضان نہ صرف خاندان کا ذمہ دار فرد تھا بلکہ اپنے والدین کے مستقبل کا ایک اہم سہارا بھی تھا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ایک نوجوان بیٹے کی موت سے صرف جذباتی نقصان ہی نہیں بلکہ خاندان کو طویل المدتی مالی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔
درخواست گزار کے وکیل عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے عدالت کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ دستیاب حقائق سے ظاہر ہوتا ہے کہ حادثہ ٹرالر ڈرائیور کی مبینہ غفلت اور تیز رفتاری کے باعث پیش آیا۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ڈرائیور اور گاڑی کے مالک دونوں کو اس واقعے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے متاثرہ خاندان کو 13 کروڑ روپے بطور ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا جائے تاکہ انہیں ہونے والے مالی نقصان کا کسی حد تک ازالہ ہو سکے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ کسی بھی خاندان کے لیے اپنے نوجوان اور محنتی فرد کو کھو دینا ناقابل تلافی نقصان ہوتا ہے۔ اگرچہ کسی انسان کی جان کی قیمت ادا نہیں کی جا سکتی، تاہم قانون متاثرہ خاندان کو مالی معاوضہ حاصل کرنے کا حق دیتا ہے تاکہ ان کی مشکلات میں کسی حد تک کمی لائی جا سکے۔ اسی بنیاد پر عدالت سے ہرجانے کی رقم کی ادائیگی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق ایسے مقدمات میں عدالت مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیتی ہے، جن میں حادثے کے حالات، ذمہ داری کا تعین، شواہد، متعلقہ ریکارڈ، گواہوں کے بیانات اور متاثرہ خاندان کو پہنچنے والے مالی و سماجی نقصان کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ تمام شواہد کا جائزہ لینے کے بعد عدالت قانون کے مطابق اپنا فیصلہ سناتی ہے۔
اس واقعے نے ایک مرتبہ پھر کراچی میں بھاری گاڑیوں کی نقل و حرکت، ٹریفک قوانین پر عملدرآمد اور سڑکوں پر شہریوں کی حفاظت سے متعلق سوالات کو نمایاں کر دیا ہے۔ مختلف سماجی حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ٹریفک قوانین کی سختی سے پابندی کرائی جائے، بھاری گاڑیوں کی نگرانی کو مؤثر بنایا جائے اور لاپرواہی کے مرتکب ڈرائیوروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
دوسری جانب عدالت نے درخواست وصول کرتے ہوئے مقدمے کی آئندہ سماعت کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سماعتوں میں دونوں فریقین اپنے اپنے دلائل اور شواہد عدالت کے سامنے پیش کریں گے، جس کے بعد عدالت قانون اور دستیاب ثبوتوں کی روشنی میں مناسب فیصلہ صادر کرے گی۔ متاثرہ خاندان نے امید ظاہر کی ہے کہ انہیں انصاف فراہم کیا جائے گا اور ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔
