دنیا بھر میں آم کو پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے اور مختلف ممالک میں اس کی بے شمار اقسام دستیاب ہیں، تاہم جاپان کی مشہور میازاکی قسم اپنی غیر معمولی قیمت، منفرد ذائقے اور محدود پیداوار کے باعث دنیا کے مہنگے ترین آموں میں شمار ہوتی ہے۔
حالیہ دنوں بھارت کے ایک کاشتکار نے اپنی فصل میں تیار ہونے والے میازاکی آم تقریباً 2 لاکھ 11 ہزار بھارتی روپے فی کلو میں فروخت کیے، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 6 لاکھ 12 ہزار روپے کے برابر بنتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک کلو میں صرف چار آم شامل تھے، جس کے باعث ہر آم کی قیمت بھی غیر معمولی حد تک زیادہ رہی۔
کاشتکار کے مطابق یہ نایاب آم ایک معروف پھل فروش نے خریدے، جو گزشتہ برس سے اس خصوصی قسم کی خریداری میں دلچسپی رکھتا تھا۔ فروخت کے بعد یہ آم ایک بار پھر سوشل میڈیا اور زرعی حلقوں میں موضوعِ بحث بن گئے۔
میازاکی آم جاپان کے صوبے میازاکی سے منسوب ہے، جہاں اسے انتہائی جدید زرعی تکنیک، مخصوص درجہ حرارت اور سخت معیار کے تحت اگایا جاتا ہے۔ ہر پھل کو درخت پر خصوصی دیکھ بھال فراہم کی جاتی ہے، جبکہ بعض باغات میں آموں کو سورج کی روشنی یکساں ملنے کے لیے الگ جالیوں میں محفوظ رکھا جاتا ہے تاکہ ان کا رنگ، شکل اور معیار متاثر نہ ہو۔
اس آم کی نمایاں خصوصیت اس کا گہرا سرخ اور ارغوانی مائل رنگ، خوشبودار گودا اور غیر معمولی مٹھاس ہے۔ اسی وجہ سے اسے جاپان میں “ایگ آف دی سن” (Egg of the Sun) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور اسے اکثر قیمتی تحفے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
ماہرین غذائیت کے مطابق میازاکی آم میں وٹامن اے، وٹامن سی، بیٹا کیروٹین، فولک ایسڈ اور اینٹی آکسیڈنٹس کی مقدار عام آموں کے مقابلے میں زیادہ پائی جاتی ہے، جو جسمانی صحت، قوتِ مدافعت اور جلد کی حفاظت کے لیے مفید سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم اس کی بلند قیمت کی بنیادی وجہ غذائیت سے زیادہ اس کی نایابی، محدود پیداوار، سخت کوالٹی کنٹرول اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی طلب ہے۔
زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ میازاکی آم کی کامیاب کاشت ہر علاقے میں ممکن نہیں، کیونکہ اس کے لیے مخصوص موسمی حالات، جدید باغبانی کے طریقے اور مسلسل نگرانی درکار ہوتی ہے۔ یہی عوامل اسے دنیا کے سب سے منفرد اور مہنگے پھلوں میں شامل کرتے ہیں، جہاں بعض اعلیٰ معیار کے پھل نیلامیوں میں بھی لاکھوں روپے میں فروخت ہو چکے ہیں۔
