گھوٹکی: زمینی تنازع کیس میں نامزد شخص کی الزامات کی تردید، غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ
گھوٹکی کے علاقے عادلپور تھانے کی حدود میں واقع گہوٹا واہی کے قریب زمین کے تنازع سے متعلق سامنے آنے والے واقعے میں نامزد منظور مہر نے اپنے اور اپنے بھائیوں کے خلاف لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔
منظور مہر نے میڈیا سے گفتگو کے دوران قرآن پاک ہاتھ میں اٹھا کر کہا کہ ان کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں اور ان پر عائد کیے گئے الزامات حقائق کے برعکس ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ انہیں ذاتی رنجش کی بنیاد پر مقدمے میں ملوث کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں ملکی عدالتی اور قانونی نظام پر مکمل اعتماد ہے اور وہ تحقیقات کرنے والے اداروں کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ اس معاملے کی شفاف، غیر جانبدار اور میرٹ پر تحقیقات کرائے تاکہ حقیقت سامنے آسکے اور کسی بے گناہ شخص کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔
اس موقع پر گاؤں کے رہائشی حاجی نور محمد مہر، اور دیگر افراد نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے منظور مہر کے مؤقف کی حمایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے سے متعلق سامنے آنے والے الزامات کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ تمام حقائق واضح ہو سکیں اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔
واضح رہے کہ مذکورہ معاملہ تفتیش کے مراحل میں ہے، اس لیے الزامات اور جوابی مؤقف کی حتمی تصدیق متعلقہ تحقیقاتی اداروں اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی ممکن ہوگی۔
