ایران کے ایک اعلیٰ سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ خطے میں جاری کشیدہ صورتحال کے باوجود تہران نے سفارتی رابطوں کا سلسلہ ختم نہیں کیا۔ ان کے مطابق مختلف علاقائی ممالک کی ثالثی کے ذریعے امریکا تک پیغامات پہنچانے اور رابطے برقرار رکھنے کی کوششیں جاری ہیں۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے ایران کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے جیسے اقدامات بین الاقوامی قوانین کی روح کے منافی ہیں۔ ان کے بقول شہری تنصیبات پر حملوں سے نہ صرف حالات مزید خراب ہوتے ہیں بلکہ ایسے اقدامات عالمی سطح پر قانونی سوالات بھی جنم دے سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دی ہے، تاہم ان کے مطابق امریکا کی سخت پالیسیوں اور فوجی سرگرمیوں نے اعتماد سازی کے عمل کو متاثر کیا ہے، جس کے باعث بات چیت کا ماحول پیچیدہ ہو گیا ہے۔

ایرانی عہدیدار نے واضح کیا کہ تہران اب بھی سفارتی حل کو اہمیت دیتا ہے، لیکن قومی سلامتی اور ملکی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اور ممکنہ آپشنز پر بھی غور جاری رکھا جائے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ کشیدگی کی ایک بڑی وجہ امریکا کا مبینہ طور پر 17 جون کی مفاہمتی سمجھوتے سے پیچھے ہٹنا ہے۔ ان کے مطابق اسی پیش رفت کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اعتماد میں مزید کمی آئی اور خطے میں تناؤ بڑھ گیا۔

ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ اگر واشنگٹن اپنی پالیسی میں نرمی لاتا ہے اور طے شدہ شرائط کا احترام کرتا ہے تو مذاکرات کی راہ دوبارہ ہموار ہو سکتی ہے۔ تاہم موجودہ حالات میں ایران اپنی دفاعی اور سفارتی حکمت عملی پر عمل درآمد جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

دوسری جانب اس معاملے پر امریکی حکومت کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان یا ردعمل سامنے نہیں آیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *