ایف آئی اے کی کارروائی، نادرا افسران اور ایجنٹ سے تفتیش میں اہم پیش رفت
ایف آئی اے کی جاری تحقیقات میں گرفتار نادرا سے وابستہ افراد اور نجی ایجنٹ سے پوچھ گچھ کے دوران اہم معلومات سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق تفتیش میں یہ انکشاف ہوا کہ ایک بڑی تعداد میں غیر ملکی شہریوں کے پاکستانی شناختی کارڈز کے معاملات مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے آگے بڑھائے گئے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق شناختی دستاویزات کی تیاری اور پراسیسنگ کے لیے مختلف سرکاری و نجی دستاویزات، جن میں پیدائش، وفات اور شادی کے سرٹیفکیٹس کے علاوہ والدین کے قومی شناختی کارڈز کی نقول بھی شامل تھیں، استعمال کی جاتی تھیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کاغذات ایک نجی ایجنٹ کے ذریعے جمع کیے جاتے اور بعد ازاں مبینہ طور پر ایک سابق نادرا ملازم کے ذریعے متعلقہ افراد تک پہنچائے جاتے تھے۔
ذرائع کے مطابق تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ شناختی دستاویزات کی منظوری اور تجزیاتی عمل کے عوض بھاری رقوم وصول کی جاتی تھیں، جبکہ رقم مختلف افراد کے ذریعے ایک افسر تک پہنچانے کا مبینہ انتظام موجود تھا۔ ان دعوؤں کی مزید چھان بین جاری ہے۔
تفتیش کے دوران ایک ملزم نے چند مشتبہ شناختی کارڈز کی پراسیسنگ سے متعلق بھی معلومات فراہم کیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے کے مطابق ملزم کے قبضے سے موبائل فون اور دیگر متعلقہ ریکارڈ بھی برآمد کیا گیا ہے، جس کا فرانزک اور تکنیکی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کیس میں گرفتار افراد کے علاوہ دیگر ممکنہ کرداروں کا تعین بھی جاری تحقیقات کی روشنی میں کیا جائے گا، اور شواہد کی بنیاد پر مزید کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب مشرقی ضلع کی عدالت میں افغان شہریوں کے لیے مبینہ جعلی شناختی دستاویزات کی تیاری سے متعلق مقدمے کی سماعت ہوئی، جہاں ایف آئی اے نے چار ملزمان کو عدالت کے روبرو پیش کیا۔
عدالت نے تفتیش مکمل کرنے کے لیے ملزمان کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں ایف آئی اے کے حوالے کر دیا۔
ایف آئی اے کا مؤقف ہے کہ ملزمان پر سرکاری ریکارڈ میں غیر قانونی ردوبدل کرکے افغان شہریوں کے لیے شناختی دستاویزات تیار کرنے کا شبہ ہے۔ ادارے کے مطابق دورانِ تحقیقات بعض ملزمان کے ممکنہ روابط سے متعلق بھی معلومات سامنے آئی ہیں، جن کی مختلف پہلوؤں سے مزید جانچ کی جا رہی ہے۔ تاہم ان الزامات کا حتمی فیصلہ عدالت میں شواہد کی بنیاد پر ہوگا۔
