موجودہ موسمی صورتحال
محکمہ موسمیات کے مطابق بحیرۂ عرب اور خلیجِ بنگال سے آنے والی مرطوب مون سون ہوائیں ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں سرگرم ہیں، جبکہ مغربی ہواؤں کا ایک سلسلہ بھی ان علاقوں پر اثرانداز ہو رہا ہے۔ دونوں موسمی نظاموں کے باعث آئندہ دو روز کے دوران بارشوں کی شدت میں اضافے کا امکان ہے۔
بدھ کی پیش گوئی
خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر، اسلام آباد، پنجاب، شمال مشرقی بلوچستان اور گلگت بلتستان کے بیشتر علاقوں میں تیز ہواؤں، آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔ بعض مقامات پر شدید بارش ہونے کے باعث مقامی ندی نالوں میں طغیانی، شہری علاقوں میں پانی جمع ہونے اور نشیبی علاقوں کے زیرِ آب آنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
جمعرات کی پیش گوئی
ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ خیبرپختونخوا، کشمیر، اسلام آباد، پنجاب، شمال مشرقی بلوچستان اور گلگت بلتستان میں کہیں کہیں موسلادھار سے انتہائی موسلادھار بارش ہو سکتی ہے، جس کے باعث لینڈ سلائیڈنگ اور شہری سیلاب جیسے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ موجود ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کا موسمی جائزہ
گزشتہ ایک روز کے دوران پنجاب، اسلام آباد، خیبرپختونخوا، کشمیر، گلگت بلتستان اور شمال مشرقی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ بعض مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش بھی ہوئی۔ اس کے برعکس سندھ اور جنوبی بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہا۔
سب سے زیادہ بارش پنجاب کے شہر گوجرانوالہ (142 ملی میٹر) میں ریکارڈ کی گئی، جبکہ منڈی بہاؤالدین (138 ملی میٹر)، نارووال (117 ملی میٹر)، سیالکوٹ ایئرپورٹ (95 ملی میٹر)، حافظ آباد (85 ملی میٹر) اور چکوال (70 ملی میٹر) بھی نمایاں متاثرہ علاقوں میں شامل رہے۔
خیبرپختونخوا میں مالم جبہ (64 ملی میٹر)، چراٹ (55 ملی میٹر) اور کالام (36 ملی میٹر) میں اچھی بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ آزاد کشمیر میں گڑھی دوپٹہ (44 ملی میٹر)، بلوچستان میں ژوب (32 ملی میٹر) اور گلگت بلتستان میں چلاس (15 ملی میٹر) سب سے زیادہ بارش والے علاقوں میں شامل رہے۔
درجہ حرارت
ملک کے گرم ترین علاقوں میں دالبندین اور نوکنڈی میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 47 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سبی میں پارہ 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔
احتیاطی ہدایات
ماہرین نے شہریوں کو شدید بارش، تیز ہواؤں اور آندھی کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور برساتی ندی نالوں سے دور رہنے، جبکہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے خدشے کے پیش نظر احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔
