اسلام آباد: جون 2026 کے دوران پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 649 ملین ڈالر خسارے میں چلا گیا، جس کے بعد معاشی ماہرین نے بیرونی شعبے پر بڑھتے دباؤ کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق اگر برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ کیا گیا تو آئندہ مہینوں میں معیشت کو مزید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ کسی بھی ملک کے بیرونی مالی لین دین کی مجموعی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ اس میں اشیا اور خدمات کی تجارت، آئی ٹی شعبے کی برآمدات اور بیرون ملک مقیم شہریوں کی بھیجی گئی رقوم اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ جب درآمدات اور دیگر ادائیگیاں آمدنی سے بڑھ جائیں تو خسارہ پیدا ہوتا ہے، جسے پورا کرنے کے لیے بیرونی سرمایہ کاری، قرضوں یا دیگر مالی ذرائع پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔
ماہرین نے نشاندہی کی کہ پاکستان ماضی میں بھی بڑھتے ہوئے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے باعث روپے کی قدر میں کمی، درآمدی دباؤ، مہنگائی اور بلند شرح سود جیسے معاشی مسائل کا سامنا کر چکا ہے، اس لیے موجودہ صورتحال پر بھی غور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
تازہ اعداد و شمار کے مطابق جون 2026 میں برآمدات میں نمایاں بہتری دیکھنے میں نہیں آئی، جبکہ درآمدات کا حجم گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً ایک ارب ڈالر بڑھ گیا۔ عالمی سطح پر توانائی کی بلند قیمتیں، ایل این جی، کوئلہ، صنعتی خام مال اور بحری نقل و حمل کے اخراجات میں اضافے نے درآمدی بل کو مزید بڑھا دیا۔
دوسری جانب سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں تقریباً 9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد ان کا مجموعی حجم تقریباً 41 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ ماہرین کے مطابق انہی رقوم نے بیرونی شعبے پرپریشر کو کسی حد تک کم رکھنے میں ضروری کردار ادا کیا، ورنہ صورتحال زیادہ مشکل ہو سکتی تھی۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ مالیاتی اقدامات، جن میں برآمدی شعبے کے لیے بعض ٹیکس مراعات، خام مال پر ڈیوٹی میں کمی اور کم از کم ٹیکس کی شرح میں کمی شامل ہے، مثبت پیش رفت ضرور ہیں، لیکن صرف یہی اقدامات کافی نہیں ہوں گے۔ پائیدار معاشی استحکام کے لیے صنعتی اصلاحات، پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور برآمدی شعبے کی مسابقت بڑھانا ضروری ہے۔
، نئی عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کی جائے، زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کرائی جائے اور اعلیٰ معیار کی غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 2 فیصد سے کم رہے تو اسے قابلِ انتظام سمجھا جا سکتا ہے، تاہم سیاسی غیر یقینی، سرکاری گورنمنٹ کے اخراجات میں زیادتی یا درآمدی طلب بڑھنے کی صورت میں بیرونی کھاتوں پر دوبارہ پریشر بڑھ سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں نے سفارش کی کہ حکومت اور برآمدی شعبے کے نمائندوں کے درمیان باقاعدہ اجلاس منعقد کیے جائیں تاکہ کاروباری برادری کو درپیش مسائل بروقت حل ہوں اور برآمدات میں اضافے کی حکمت عملی مؤثر انداز میں آگے بڑھ سکے۔
