نجی اسپتال میں خاتون کےموت کے بعد احتجاج، ڈاکٹروں کی غفلت کے الزامات پر تحقیقات شروع
کراچی: شہر کے علاقے گلستانِ جوہر میں واقع ایک نجی اسپتال میں زیرِ علاج خاتون کے انتقال کے بعد لواحقین نے شدید احتجاج کیا اور اسپتال کے اندر ہنگامہ آرائی کے دوران املاک کو نقصان پہنچایا۔ اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی، صورتحال کو قابو میں لیا اور واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا۔
پولیس کے مطابق ابتدائی طور پر امن و امان کی صورتحال بحال کر دی گئی ہے، جبکہ تمام پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد قانون کے مطابق ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
متوفیہ کے اہلِ خانہ کا مؤقف ہے کہ خاتون کو گردے کی پتھری کے علاج اور آپریشن کے لیے اسپتال لایا گیا تھا اور داخلے کے وقت ان کی حالت تسلی بخش تھی۔ اہلِ خانہ کے مطابق آپریشن کے دوران پیچیدگیاں پیدا ہوئیں، جس کے بعد خاتون جانبر نہ ہو سکیں۔
متوفیہ کے بیٹے نے میڈیا سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ علاج کے دوران طبی عملے کی جانب سے مناسب احتیاط اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں والدہ کی صحت سے متعلق مکمل اور بروقت معلومات فراہم نہیں کی گئیں، جس کے باعث خدشات مزید بڑھ گئے۔
اہلِ خانہ نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ واقعے کے بعد بعض متعلقہ ڈاکٹر اور عملہ اسپتال میں موجود نہیں تھا، جس سے شکوک و شبہات پیدا ہوئے۔
واقعے کے بعد اسپتال کی معمول کی سرگرمیاں عارضی طور پر متاثر رہیں اور سیکیورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے۔ بعض مریضوں اور ان کے تیمارداروں کو احتیاطی اقدامات کے تحت اسپتال سے باہر منتقل کیا گیا۔
لواحقین نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر تحقیقات میں کسی قسم کی طبی غفلت ثابت ہوتی ہے تو ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ تمام شواہد اور بیانات کی روشنی میں غیرجانبدارانہ تحقیقات جاری ہیں اور حقائق سامنے آنے کے بعد مناسب قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔
