ہمارے میزائلوں اور لانچرز کا ذخیرہ 28 فروری کے مقابلے میں 120 فیصد ہیں: عباس عراقچی
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ جب بھی سفارتی حل کی بات آگے بڑھتی ہے، امریکا غیر ذمہ دارانہ فوجی مہم جوئی کا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا یہ دباؤ بڑھانے کی کوشش ہے یا کسی کی جانب سے ٹرمپ کو ایک نئی دلدل میں دھکیلنے کا نتیجہ؟ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وجوہات کچھ بھی ہوں، ایرانی قوم دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گی۔
عباس عراقچی نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے داغے گئے دو بیلسٹک میزائل اور تین ڈرون فضا میں تباہ کر دیے گئے، جبکہ وزارت دفاع کے مطابق حملے میں تین افراد معمولی زخمی ہوئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سی آئی اے کے اندازے غلط ہیں۔ ان کے مطابق ایران کے میزائلوں اور لانچرز کا ذخیرہ 28 فروری کے مقابلے میں 75 فیصد نہیں بلکہ 120 فیصد ہے، جبکہ اپنے عوام کے دفاع کے لیے ایران کی تیاری “ایک ہزار فیصد” ہے۔