لاہور: پاکستانی اداکارہ مومنہ اقبال نے مبینہ ہراسانی سے متعلق جاری معاملے پر ایک بار پھر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ اپنے پاس موجود تمام شواہد سوشل میڈیا پر عوام کے سامنے لے آئیں گی۔ اداکارہ نے اپنے مؤقف میں کہا کہ وہ اس معاملے کو خاموشی سے ختم کرنے کے بجائے قانونی اور عوامی سطح پر اپنی آواز اٹھاتی رہیں گی۔

مومنہ اقبال نے یہ مؤقف ایک انسٹاگرام اسٹوری کے ذریعے سامنے رکھا، جس میں انہوں نے کیس کی تفتیش اور بعض متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی کے حوالے سے سوالات اٹھائے۔ اداکارہ کے مطابق وہ معاملے کے آغاز سے ہی متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتی رہی ہیں کہ جس شخص پر وہ ہراساں کرنے کا الزام عائد کر رہی ہیں، اسے اس کے عہدے سے عارضی طور پر الگ کیا جائے تاکہ وہ اپنے مبینہ اثرورسوخ اور وسائل کو ان کے خلاف استعمال نہ کرسکے۔

مومنہ اقبال کا اہم مطالبہ

اداکارہ نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ وہ شروع سے یہ چاہتی ہیں کہ مسلم لیگ ن کے رکن صوبائی اسمبلی ثاقب چدھڑ کو ان کے عہدے سے معطل کیا جائے۔ مومنہ اقبال کے مطابق اس اقدام کا مقصد کسی کو سزا دینا نہیں بلکہ تحقیقات کے عمل کو غیر جانب دار اور شفاف بنانا تھا۔

اداکارہ کا مؤقف ہے کہ اگر کسی بااثر شخصیت کے خلاف کوئی شکایت یا الزام زیرِ تفتیش ہو تو تحقیقات مکمل ہونے تک اسے اپنے اختیارات استعمال کرنے سے روکنا ضروری ہوسکتا ہے، تاکہ شکایت کنندہ خود کو دباؤ یا کسی ممکنہ اثرانداز ہونے کے خدشے سے محفوظ محسوس کرے۔

مومنہ اقبال نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ثاقب چدھڑ مبینہ طور پر اپنے اختیارات کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ اداکارہ کے مطابق ان کے گھر پر بھی مبینہ طور پر کچھ افراد کو بھیجا گیا۔ تاہم ان الزامات کے حوالے سے متعلقہ فریق کا مؤقف بھی اہم ہے اور حتمی نتیجہ متعلقہ قانونی کارروائی اور تحقیقات کی بنیاد پر ہی سامنے آسکتا ہے۔

تفتیشی عمل پر بھی سوالات

مومنہ اقبال نے کیس کی تفتیش کے طریقہ کار پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ اداکارہ کا کہنا تھا کہ جس شخص پر انہوں نے ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا ہے، اس کے ساتھ ساتھ اس کی اہلیہ سے بھی ان کے بقول وہ تحقیقات نہیں کی گئیں جو اس معاملے کی مکمل حقیقت جاننے کے لیے ضروری تھیں۔

اداکارہ نے مؤقف اختیار کیا کہ کسی بھی شکایت کی مکمل اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں تاکہ تمام متعلقہ فریقوں کا مؤقف ریکارڈ پر لایا جاسکے اور حقائق واضح ہوسکیں۔ ان کے مطابق وہ چاہتی ہیں کہ معاملے کی تحقیقات شفاف انداز میں آگے بڑھیں اور ان کے تحفظات کو بھی مناسب طور پر سنا جائے۔

سوشل میڈیا پر ثبوت لانے کا اعلان

مومنہ اقبال نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ اس معاملے سے دستبردار ہونے کا ارادہ نہیں رکھتیں۔ ان کے مطابق اگر انہیں ضرورت محسوس ہوئی تو وہ اپنے پاس موجود تمام شواہد سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کے سامنے رکھ دیں گی۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ شواہد سامنے آنے کے بعد عوام خود صورت حال کا جائزہ لے سکیں گے اور معاملے کے مختلف پہلوؤں کو سمجھ سکیں گے۔ ان کے اس اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر بھی اس کیس سے متعلق بحث میں اضافہ ہوگیا ہے اور مداحوں سمیت دیگر صارفین مومنہ اقبال کے آئندہ اقدام کے منتظر ہیں۔

تاہم کسی بھی زیرِ سماعت یا زیرِ تفتیش معاملے میں سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے دعووں یا شواہد کی قانونی حیثیت کا تعین متعلقہ عدالت اور تحقیقاتی اداروں کے ذریعے ہی کیا جاسکتا ہے۔

سیشن کورٹ میں کیس کی پیش رفت

دوسری جانب اس معاملے میں لاہور کی سیشن کورٹ میں بھی کارروائی ہوچکی ہے۔ سماعت کے دوران تفتیشی افسر کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ سمیرا کی گرفتاری ضروری نہیں۔

تفتیشی افسر کی جانب سے دونوں کو بے گناہ قرار دیے جانے کے بعد ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ کی جانب سے دائر عبوری ضمانت کی درخواستیں واپس لے لی گئیں۔ عدالت میں پیش کی گئی تفتیشی رپورٹ اور فریقین کے مؤقف کیس کی آئندہ قانونی کارروائی میں اہمیت رکھتے ہیں۔

یہ پیش رفت مومنہ اقبال کے تازہ بیان کے تناظر میں بھی اہم سمجھی جارہی ہے، کیونکہ اداکارہ نے تفتیش کے بعض پہلوؤں پر پہلے ہی اپنے تحفظات ظاہر کیے ہیں۔

معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا

مومنہ اقبال کے سوشل میڈیا بیان کے بعد یہ معاملہ ایک مرتبہ پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ اداکارہ کی جانب سے تمام مبینہ ثبوت منظرعام پر لانے کے اعلان نے کیس کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

اس معاملے میں ایک جانب اداکارہ اپنے الزامات اور تحفظات پر قائم نظر آتی ہیں، جبکہ دوسری جانب تفتیشی عمل میں سامنے آنے والی رپورٹ اور عدالت میں ہونے والی کارروائی بھی کیس کا اہم حصہ ہے۔ ایسے میں حتمی حقیقت کا تعین متعلقہ قانونی فورم پر دستیاب شواہد، بیانات اور تحقیقات کی روشنی میں ہی ممکن ہوگا۔

مومنہ اقبال کی جانب سے ممکنہ طور پر مزید شواہد سوشل میڈیا پر شیئر کیے جانے کے بعد کیس کے کئی پہلو عوامی بحث کا حصہ بن سکتے ہیں۔ تاہم کسی بھی الزام کو حتمی حقیقت قرار دینے سے قبل متعلقہ فریقین کے مؤقف اور عدالت یا تحقیقاتی اداروں کے حتمی فیصلے کو مدنظر رکھنا ضروری ہوگا۔

فی الحال مومنہ اقبال نے اپنے مؤقف میں واضح کیا ہے کہ وہ معاملے کو نظر انداز کرنے کے بجائے اسے منطقی انجام تک پہنچانے کی کوشش جاری رکھیں گی اور ضرورت پڑنے پر اپنے پاس موجود شواہد عوام کے سامنے رکھنے کا راستہ اختیار کرسکتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *