گیس نرخ برقرار رکھنے سے سرکاری کمپنی پر 819 ارب روپے کا اضافی بوجھ
اسلام آباد: گیس کی قیمتوں میں بروقت ردوبدل نہ ہونے اور درآمدی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) گھریلو صارفین کو نسبتاً کم نرخوں پر فراہم کیے جانے کے فیصلوں کے باعث سرکاری گیس کمپنی سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (SNGPL) پر 819 ارب روپے سے زائد کا مالی دباؤ پڑ گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق کمپنی نے حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ وہ پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے واجبات کی ادائیگی کے لیے حاصل کیے گئے 50 ارب روپے کے بینک قرضے کو مقررہ مدت میں واپس کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ اسی وجہ سے کمپنی نے اس قرضے پر حکومتی ضمانت کی مدت جون 2030 تک بڑھانے کی درخواست کی ہے۔
دستاویزی معلومات کے مطابق مالی سال 2013 کے بعد کئی برس تک گیس ٹیرف میں بروقت نظرثانی نہ ہونے سے گیس سیکٹر کے مالی مسائل اور گردشی قرضے میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ بعد ازاں نومبر 2023 سے گیس نرخوں میں مرحلہ وار تبدیلیوں کے نتیجے میں نئے گردشی قرضے کی رفتار میں کمی آئی، تاہم تاخیر سے ادائیگی پر عائد سرچارج اور سود کا بوجھ بدستور بڑھتا رہا۔
دسمبر 2025 تک کمپنی کے قابل وصول واجبات تقریباً ایک ہزار 95 ارب روپے تک پہنچ گئے، جبکہ تاخیر سے ادائیگی کے باعث سرچارج کی مجموعی مالیت 931 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔
پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق بنیادی واجبات کی بڑی وجہ یہ رہی کہ گیس کی قیمتوں میں بروقت اضافہ نہیں کیا گیا، جبکہ درآمدی ری گیسفائیڈ ایل این جی (RLNG) کو نسبتاً کم نرخوں پر گھریلو صارفین تک پہنچایا جاتا رہا، جس کے باعث مالی خسارے کا بوجھ بڑھتا گیا۔