کراچی میں پولیس مقابلہ، گوپانگ رکشہ گینگ کے تین ملزمان گرفتار
کراچی میں ایسٹ پولیس نے مبینہ پولیس مقابلے کے بعد گوپانگ رکشہ گینگ سے تعلق رکھنے والے تین ملزمان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ گرفتار افراد میں ایک ملزم زخمی حالت میں پولیس کے ہاتھ آیا، جبکہ دو دیگر کو بغیر زخمی ہوئے حراست میں لے لیا گیا۔ پولیس کے مطابق ملزمان شہر کے مختلف علاقوں میں اسٹریٹ کرائم، موبائل فون چھیننے اور شہریوں کو رکشے میں بٹھا کر لوٹنے کی متعدد وارداتوں میں مطلوب تھے۔

پولیس حکام کے مطابق کارروائی رات گئے بلوچ پل کے قریب کی گئی، جہاں ٹیپو سلطان پولیس اور شاہین فورس کے اہلکار معمول کی کارروائی کے دوران رکشے میں سوار مشکوک افراد کے قریب پہنچے۔ پولیس نے رکشہ روکنے کا اشارہ کیا تو ملزمان نے مبینہ طور پر فائرنگ شروع کردی، جس کے بعد پولیس اور ملزمان کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

پولیس کے مطابق مقابلے کے نتیجے میں ایک ملزم زخمی ہوگیا، جسے گرفتار کرلیا گیا، جبکہ اس کے دو ساتھیوں کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ زخمی ملزم کو فسٹ ایڈ کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
گرفتار ملزمان کون ہیں؟
پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کی شناخت غلام شبیر، تنویر اور رکشہ ڈرائیور سمیر ضمیر کے ناموں سے ہوئی ہے۔ ابتدائی تفتیش میں ملزمان کا تعلق گوپانگ گینگ سے بتایا گیا ہے، جو مبینہ طور پر کراچی کے مختلف علاقوں میں شہریوں کو لوٹنے کی وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد اسٹریٹ کرائم اور موبائل فون چھیننے کے متعدد مقدمات میں پولیس کو مطلوب تھے۔ ملزمان کے ممکنہ دیگر ساتھیوں اور ان کے جرائم کے نیٹ ورک سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے بھی تفتیش جاری ہے۔
مختلف علاقوں میں وارداتوں کا انکشاف
پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان سے متعلق ابتدائی معلومات میں گلستانِ جوہر، مبینہ ٹاؤن، بہادرآباد اور ان سے ملحقہ علاقوں میں حالیہ وارداتوں کا ذکر سامنے آیا ہے۔ تفتیشی حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ ملزمان ان واقعات میں کس حد تک ملوث رہے اور آیا ان کے خلاف درج دیگر مقدمات سے بھی ان کا تعلق ہے۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزمان شہریوں کو رکشے میں سوار کرانے کے بعد انہیں لوٹتے تھے۔ مبینہ طریقۂ واردات کے مطابق مسافروں کو رکشے میں بٹھانے کے بعد کسی سنسان مقام پر لے جایا جاتا، جہاں ان سے موبائل فونز، نقدی اور دیگر قیمتی سامان چھین کر انہیں چھوڑ دیا جاتا تھا۔ اس کے بعد ملزمان موقع سے فرار ہوجاتے تھے۔

حکام کے مطابق اس طریقۂ واردات کے حوالے سے ملزمان سے مزید پوچھ گچھ کی جارہی ہے تاکہ ان کے خلاف سامنے آنے والی شکایات اور مقدمات کا باہمی تعلق واضح کیا جاسکے۔
اسلحہ، موبائل فونز اور رکشہ تحویل میں لے لیا گیا
پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کے قبضے سے تین مبینہ غیر قانونی پستول، گولیاں، متعدد موبائل فونز اور نقدی برآمد ہوئی ہے۔ مبینہ وارداتوں میں استعمال ہونے والے رکشے کو بھی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔

پولیس حکام برآمد ہونے والے موبائل فونز اور دیگر سامان کی جانچ کررہے ہیں تاکہ ان کے اصل مالکان کی شناخت اور ممکنہ طور پر متعلقہ مقدمات سے ان کا تعلق معلوم کیا جاسکے۔ حکام کے مطابق اسلحے اور دیگر شواہد کو تفتیش کا حصہ بنایا جارہا ہے۔

پولیس کا مزید کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان شاہ لطیف ٹاؤن سے گرفتار کیے گئے افراد اور سیکڑوں موبائل فونز کی برآمدگی سے متعلق ایک مقدمے میں بھی مطلوب تھے۔ اس پہلو سے بھی تفتیش جاری ہے تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ زیرِ حراست افراد کا اس کیس سے کیا تعلق ہے۔
مقدمات درج، مزید تفتیش جاری
واقعے کے بعد پولیس نے متعلقہ مقدمات درج کرکے مزید تفتیش شروع کردی ہے۔ زخمی ملزم کو اسپتال میں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے، جبکہ دیگر گرفتار ملزمان کو مزید قانونی کارروائی کے لیے تھانے منتقل کردیا گیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق تفتیش کے دوران ملزمان سے شہر کے مختلف علاقوں میں ہونے والی وارداتوں، برآمد شدہ موبائل فونز، اسلحے اور ممکنہ ساتھیوں کے بارے میں معلومات حاصل کی جائیں گی۔ مزید شواہد سامنے آنے پر مقدمات میں پیش رفت متوقع ہے۔

کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں شہریوں کے لیے مسلسل تشویش کا باعث ہیں۔ پولیس کی جانب سے ایسی کارروائیوں کا مقصد جرائم میں ملوث عناصر کی نشاندہی، شہریوں سے چھینا گیا سامان برآمد کرنا اور وارداتوں کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہے۔ تاہم گرفتار ملزمان کے خلاف الزامات کی حتمی حیثیت کا تعین قانونی کارروائی اور عدالت میں شواہد کی بنیاد پر ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *