چینی
بانگ انفلوئنسر ینگ ینگ 24 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں
چین: چین کی معروف مک بانگ انفلوئنسر چن زیئی، جو سوشل میڈیا پر ینگ ینگ کے نام سے جانی جاتی تھیں، 24 برس کی عمر میں اچانک انتقال کرگئیں۔ ان کے والدین نے 4 ستمبر کو بیٹی کے انتقال کی تصدیق کی، تاہم خاندان کی جانب سے ان کی موت کی حتمی وجہ کے بارے میں کوئی باضابطہ وضاحت جاری نہیں کی گئی۔
ینگ ینگ سوشل میڈیا پر خاصی مقبول تھیں اور ان کے اکاؤنٹس پر 10 لاکھ سے زائد افراد انہیں فالو کرتے تھے۔ وہ خاص طور پر مک بانگ ویڈیوز اور براہ راست نشریات کے ذریعے شہرت رکھتی تھیں، جن میں وہ غیر معمولی مقدار میں کھانا کھاتے ہوئے دکھائی دیتی تھیں۔
انفلوئنسر نے ماضی میں خود اس بات کا ذکر کیا تھا کہ زیادہ مقدار میں کھانا کھانے والی براہ راست نشریات کو زیادہ ناظرین ملتے ہیں، جس کے باعث ان پر مسلسل اسی نوعیت کا مواد بنانے اور زیادہ کھانے کا دباؤ بڑھتا رہا۔ ان کے مطابق لائیو نشریات کی کارکردگی اور ناظرین کی تعداد بہتر بنانے کے لیے انہیں کھانے کی مقدار بڑھانا پڑتی تھی۔
ینگ ینگ نے انتقال سے صرف چند روز قبل 14 اگست کو اپنی آخری ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی تھی۔ ویڈیو میں انہوں نے بتایا تھا کہ خون میں پوٹاشیم کی خطرناک حد تک کمی کے باعث انہیں اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق اس دوران خون میں پوٹاشیم کی سطح 2.3 ملی مول فی لیٹر تک پہنچ گئی تھی۔
اپنی آخری ویڈیو میں ینگ ینگ نے یہ بھی بتایا تھا کہ انہیں اس سے پہلے بھی متعدد مرتبہ پوٹاشیم کی شدید کمی کا سامنا ہوچکا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر صحت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ مالی فوائد اپنی جگہ، لیکن انسان کی صحت کو ہمیشہ ترجیح دینی چاہیے۔
رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ ینگ ینگ نے ایک لائیو اسٹریم کے دوران 60 سے 70 ابلے ہوئے انڈے کھانے کا ذکر کیا تھا۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی، اس لیے اس تعداد کو حتمی طور پر درست قرار نہیں دیا جاسکتا۔
طبی ماہرین کے مطابق خون میں پوٹاشیم کی شدید کمی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے اور اس کے نتیجے میں دل کی دھڑکن میں سنگین بے قاعدگی سمیت متعدد پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ بعض رپورٹس میں ینگ ینگ کی موت کو طویل عرصے تک جاری رہنے والی پوٹاشیم کی کمی کے بعد دل کی فعالیت متاثر ہونے سے منسلک کیا گیا ہے، تاہم ان کے اہل خانہ یا کسی سرکاری طبی ادارے نے اب تک موت کی حتمی وجہ کی تصدیق نہیں کی۔
ینگ ینگ کے اچانک انتقال کی خبر سامنے آنے کے بعد چین سمیت سوشل میڈیا پر مک بانگ کے بڑھتے ہوئے رجحان اور اس میں غیر معمولی مقدار میں کھانا کھانے کے ممکنہ طبی نقصانات پر ایک مرتبہ پھر بحث شروع ہوگئی ہے۔
ان کی موت نے اس سوال کو بھی نمایاں کردیا ہے کہ سوشل میڈیا پر زیادہ ناظرین اور مقبولیت حاصل کرنے کی دوڑ میں مواد تخلیق کرنے والوں کو اپنی صحت کے حوالے سے کس حد تک احتیاط کرنی چاہیے۔ خاص طور پر ایسے مواد کے بارے میں تشویش بڑھ رہی ہے جس میں زیادہ ناظرین حاصل کرنے کے لیے غیر معمولی مقدار میں کھانے کو تفریح کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
