پاکستان کرکٹ بورڈ کے سینٹرل کنٹریکٹس میں تاخیر، رضوان، امام اور شان مسعود کے مستقبل پر سوالات

پاکستان کرکٹ ٹیم کے نئے سینٹرل کنٹریکٹس کا معاملہ تاحال حتمی شکل اختیار نہیں کر سکا، جس کے باعث قومی کرکٹرز کا انتظار طویل ہو گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق انگلینڈ کے دورے میں ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کے بعد کنٹریکٹس کی ابتدائی فہرست پر نظرثانی کا امکان پیدا ہوا ہے، جبکہ بعض سینئر کھلاڑیوں کی کیٹیگری میں تبدیلی یا معاہدے سے باہر ہونے کے حوالے سے بھی قیاس آرائیاں جاری ہیں۔

نئے سینٹرل کنٹریکٹس یکم جولائی 2026 سے 30 جون 2027 تک کے عرصے کے لیے متوقع ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ابتدائی طور پر تقریباً 30 کھلاڑیوں کے ناموں پر مشتمل فہرست تیار کی گئی تھی، تاہم معاہدوں کا باضابطہ اعلان ابھی نہیں ہوا۔ محمد رضوان، امام الحق اور شان مسعود کے حوالے سے بھی تبدیلیوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، لیکن ان کھلاڑیوں کے مستقبل سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ سامنے آنے تک ان اطلاعات کو مصدقہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

سینٹرل کنٹریکٹس کی فہرست میں تبدیلی کا امکان

ذرائع سے منسوب اطلاعات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں کی کارکردگی اور مختلف فارمیٹس میں ان کی افادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کنٹریکٹس کی فہرست تیار کی تھی۔ اس عمل میں بین الاقوامی اور ڈومیسٹک کرکٹ میں ماضی کی کارکردگی کے ساتھ مستقبل میں کھلاڑیوں کے امکانات کو بھی اہمیت دیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ابتدائی فہرست مرتب کرنے کے لیے ایک کمپیوٹر سافٹ ویئر اور کارکردگی کے مختلف پیمانوں سے مدد لی گئی۔ سلیکٹرز کو کھلاڑیوں کی موجودہ فارم، سابقہ ریکارڈ اور مستقبل کی صلاحیتوں کا جائزہ لینے کے لیے نمبر دینے کا طریقہ اپنانے کی ہدایت کی گئی تھی۔

تاہم انگلینڈ کے دورے میں قومی ٹیم کی ناقص کارکردگی کے بعد ابتدائی منصوبے میں تبدیلیوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس معاملے میں پی سی بی کی جانب سے باضابطہ اعلان سامنے آنے کے بعد ہی معلوم ہو سکے گا کہ کن کھلاڑیوں کو معاہدے دیے گئے اور ان کی کیٹیگریز کیا ہوں گی۔

غیر ملکی لیگز میں شرکت بھی اہم معاملہ بن گئی

قومی کرکٹرز کے لیے سینٹرل کنٹریکٹس کی اہمیت صرف ماہانہ معاوضے تک محدود نہیں بلکہ اس سے غیر ملکی لیگز میں شرکت کے معاملات بھی جڑے ہوئے ہیں۔ مختلف معاہدوں اور کیٹیگریز کے تحت کھلاڑیوں کو بیرون ملک ٹی ٹوئنٹی لیگز میں شرکت کے لیے این او سی حاصل کرنے کی شرائط کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق بعض کھلاڑی ایسی کیٹیگری میں معاہدہ حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں جس میں غیر ملکی لیگز کھیلنے کے حوالے سے نسبتاً زیادہ گنجائش موجود ہو۔ ان کرکٹرز کی جانب سے یہ مؤقف بھی سامنے آنے کی اطلاعات ہیں کہ وہ ضرورت پڑنے پر قومی ٹیم کی نمائندگی کے لیے دستیاب رہیں گے۔

ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے کھلاڑیوں کے لیے بیرون ملک لیگز سے متعلق پابندیاں یا شرائط مختلف ہو سکتی ہیں، جبکہ ریڈ بال کاؤنٹی کرکٹ میں شرکت کے معاملات الگ ضابطوں کے تحت دیکھے جا سکتے ہیں۔ تاہم این او سی کی حتمی شرائط اور کھلاڑیوں پر ان کے اطلاق کی تصدیق پی سی بی کی پالیسی سے ضروری ہے۔

سینٹرل کنٹریکٹس کی کیٹیگریز اور میچ کھیلنے کی شرائط

اطلاعات کے مطابق سینٹرل کنٹریکٹس کے نظام میں مختلف کیٹیگریز کے تحت کھلاڑیوں کی درجہ بندی کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ بعض کیٹیگریز میں شامل کرکٹرز کے لیے سال کے دوران کم از کم بین الاقوامی میچ کھیلنے کی شرائط بھی لاگو ہو سکتی ہیں۔

دستیاب تفصیلات کے مطابق سینئر کھلاڑیوں کے لیے کم از کم چار ٹیسٹ، چھ ون ڈے انٹرنیشنل یا چھ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیلنے کی شرط کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کی کیٹیگری کے لیے مختلف ضابطے ہو سکتے ہیں۔ متعلقہ کھلاڑیوں کو اپنے فارمیٹ کے مطابق ڈومیسٹک کرکٹ میں شرکت بھی کرنا پڑ سکتی ہے۔

ان شرائط کا مقصد کھلاڑیوں کو بین الاقوامی ذمہ داریوں کے ساتھ ملکی کرکٹ میں بھی فعال رکھنا ہے۔ تاہم نئے کنٹریکٹس کے تحت ان اصولوں کی حتمی صورت پی سی بی کے سرکاری اعلان سے واضح ہوگی۔

کھلاڑیوں کی ماہانہ تنخواہیں کتنی ہو سکتی ہیں؟

رپورٹس میں زیر بحث معاوضوں کے مطابق مختلف کیٹیگریز میں شامل کھلاڑیوں کی ماہانہ تنخواہوں میں نمایاں فرق رکھا گیا ہے۔ بعض درجوں کے لیے 48 لاکھ روپے تک ماہانہ معاوضے کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ دیگر کیٹیگریز اور ٹی ٹوئنٹی اسپیشلسٹ کھلاڑیوں کے لیے مختلف شرحیں بیان کی گئی ہیں۔

زیر گردش تفصیلات کے مطابق معاوضوں کی مجوزہ صورت کچھ یوں ہے:

  • کیٹیگری اے بی: پہلے درجے کے لیے 48 لاکھ اور دوسرے درجے کے لیے 38 لاکھ روپے ماہانہ۔
  • کیٹیگری اے: پہلے درجے کے لیے 40 لاکھ اور دوسرے درجے کے لیے 36 لاکھ روپے ماہانہ۔
  • کیٹیگری بی سی: مختلف درجوں کے لیے 34 لاکھ اور 26 لاکھ روپے ماہانہ۔
  • ٹی ٹوئنٹی اسپیشلسٹ: 26 لاکھ اور 20 لاکھ روپے ماہانہ۔
  • کیٹیگری ڈی: 10 لاکھ روپے ماہانہ۔

یہ اعداد زیر بحث اطلاعات پر مبنی ہیں؛ انہیں پی سی بی کی حتمی منظور شدہ تنخواہوں کے طور پر پیش کرنے سے پہلے سرکاری دستاویز سے تصدیق ضروری ہے۔

میچ فیس بھی کھلاڑیوں کی آمدن کا اہم حصہ

ماہانہ معاوضے کے علاوہ کھلاڑیوں کی آمدن میں ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کی فیس بھی شامل ہوتی ہے۔ زیر گردش تفصیلات کے مطابق بعض اعلیٰ کیٹیگریز میں ٹیسٹ میچ کی فیس 15 لاکھ روپے تک بتائی گئی ہے، جبکہ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میچز کے معاوضے الگ الگ مقرر کیے جانے کا ذکر ہے۔

کیٹیگریز کے مطابق میچ فیس میں فرق کا مقصد مختلف فارمیٹس میں کھلاڑیوں کی ذمہ داریوں اور معاہدے کی شرائط کو مدنظر رکھنا ہے۔ اگر کسی کھلاڑی کو سال بھر میں زیادہ بین الاقوامی میچز کھیلنے کا موقع ملتا ہے تو اس کی مجموعی آمدن ماہانہ تنخواہ سے خاصی زیادہ ہو سکتی ہے۔

غیر ملکی لیگز کے معاوضے پی سی بی کے لیے چیلنج

پاکستان سپر لیگ اور دیگر بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی لیگز میں کھلاڑیوں کو ملنے والے معاوضے نے بھی سینٹرل کنٹریکٹس کے معاملے کو اہم بنا دیا ہے۔ بعض پاکستانی کرکٹرز فرنچائز کرکٹ سے نمایاں آمدن حاصل کرتے ہیں، جس کی وجہ سے قومی معاہدے کی مالی شرائط اور بیرون ملک کھیلنے کی اجازت ان کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔

صائم ایوب کے حوالے سے پی ایس ایل کے ایک سیزن میں 12 کروڑ 60 لاکھ روپے کے معاوضے کا ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم اس رقم کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ اگر کسی کھلاڑی کو غیر ملکی لیگز میں شرکت کے مواقع محدود کرنے پڑیں تو اس کی ممکنہ آمدن متاثر ہو سکتی ہے۔

اسی تناظر میں بعض کرکٹرز ایسی کنٹریکٹ کیٹیگری کو ترجیح دے سکتے ہیں جس میں انہیں لیگ کرکٹ کھیلنے کے زیادہ مواقع میسر ہوں۔ دوسری جانب پی سی بی کے لیے قومی ٹیم کی دستیابی، کھلاڑیوں کی فٹنس، بین الاقوامی مصروفیات اور ملکی کرکٹ کے مفادات میں توازن قائم رکھنا اہم ہوگا۔

پی سی بی کے فیصلے کا انتظار

پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے سینٹرل کنٹریکٹس کا اعلان قومی کھلاڑیوں کے مالی معاملات اور آئندہ سیزن کی منصوبہ بندی کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔ معاہدوں کی حتمی فہرست سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوگا کہ کون سے کھلاڑی کنٹریکٹ حاصل کرتے ہیں، ان کی کیٹیگریز میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں اور غیر ملکی لیگز میں شرکت کے لیے کیا شرائط مقرر کی جاتی ہیں۔

فی الحال محمد رضوان، امام الحق اور شان مسعود سمیت مختلف کھلاڑیوں کے مستقبل کے بارے میں سامنے آنے والی اطلاعات حتمی فیصلے کا متبادل نہیں ہیں۔ پی سی بی کے باضابطہ اعلان سے ہی اس معاملے کی مکمل صورت حال واضح ہو سکے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *