بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کی معیشت سے متعلق تازہ جائزہ رپورٹ میں رواں مالی سال 2026-27 کے دوران افراطِ زر میں اضافے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مہنگائی کی شرح گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں زیادہ رہ سکتی ہے اور حکومتی تخمینے سے بھی اوپر جانے کا خدشہ موجود ہے۔
آئی ایم ایف کی کنٹری رپورٹ کے مطابق موجودہ مالی سال میں پاکستان میں اوسط مہنگائی تقریباً 8.4 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ ملکی اور عالمی معاشی حالات، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور مختلف اقتصادی عوامل مہنگائی کی رفتار پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر معاشی اصلاحات کا عمل جاری رہا اور مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھا گیا تو آئندہ چند برسوں میں افراطِ زر کی شرح میں بتدریج کمی آنے کا امکان ہے۔ آئی ایم ایف کے اندازوں کے مطابق اگلے چار مالی سال کے دوران مہنگائی موجودہ مالی سال کی نسبت نسبتاً کم سطح پر رہ سکتی ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق مہنگائی میں اضافے کی صورت میں عوام کی قوتِ خرید مزید متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ حکومت کے لیے قیمتوں میں استحکام اور معاشی سرگرمیوں کو متوازن رکھنا ایک اہم چیلنج ہوگا۔ دوسری جانب معاشی اشاریوں میں بہتری اور مؤثر پالیسی اقدامات مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
