ویتنام میں درختوں کی تیز خوشبو شہریوں کے لیے مسئلہ بن گئی، حکام نے شاخیں کاٹنا شروع کر دیں
ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی میں مخصوص خوشبو والے درخت شہریوں کی شکایات کا سبب بن گئے۔ حکام نے عوامی پریشانی کم کرنے کے لیے پھولوں والی شاخوں کی کٹائی اور بعض درختوں کو دوسری جگہ منتقل کرنے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔
ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی میں پت جڑ کی پہچان سمجھے جانے والے خوشبودار درخت اب شہریوں کے لیے پریشانی کا وجہ بن رہے ہیں۔ ان درختوں سے نکلنے والی تیز خوشبو کے بارے میں بعض شہریوں نے سردرد اور مائیگرین جیسی شکایات کی ہیں، جس کے بعد مقامی منتظمین نے ان کی شاخوں کی کٹائی کا فیصلہ کیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ہنوئی میں پائے جانے والے ان درختوں کو مقامی طور پر ’ہوا سوا‘ جبکہ انگریزی میں ’ملک فلاور‘ کہا جاتا ہے۔ یہ درخت اپنی میٹھی اور نمایاں خوشبو کے باعث مشہور ہیں، خصوصاً شام کے اوقات میں ان کی مہک زیادہ محسوس ہوتی ہے۔
ستمبر اور اکتوبر کے دوران ان درختوں کی خوشبو میں مزید سختی آ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہنوئی میں موسمِ خزاں کے ساتھ ان درختوں کی خوشبو کو بھی شہر کی پہچان کا حصہ سمجھا جاتا رہا ہے۔
تیز خوشبو سے شہریوں کو مشکلات
ہنوئی کے بعض رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ان درختوں سے خارج ہونے والی خوشبو بعض اوقات اس قدر شدید ہو جاتی ہے کہ روزمرہ سرگرمیاں متاثر ہونے لگتی ہیں۔ کچھ شہریوں نے سردرد اور مائیگرین کی شکایت کی ہے، جبکہ ایک رہائشی کے مطابق اس پریشانی کے باعث انہیں شام کے وقت چہل قدمی کا معمول بھی ترک کرنا پڑا۔
شہریوں کی ان شکایات کے بعد انتظامیہ نے خوشبو کی شدت کم کرنے کے لیے عملی اقدامات شروع کیے ہیں۔ حکام کی جانب سے پانچ روزہ مہم کے دوران ان درختوں کی پھولوں والی شاخیں کاٹی جا رہی ہیں، جبکہ بعض درختوں کو دوسری جگہ منتقل کرنے کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ہنوئی میں ایسے درختوں کی تعداد تقریباً 14 ہزار 400 ہے۔ ان میں سے لگ بھگ سات فیصد درختوں کی پھولوں والی شاخوں کی کٹائی کا کام شروع کیا گیا ہے تاکہ خوشبو کی شدت کم کرکے شہریوں کو ریلیف دیا جا سکے۔
شہریوں کی رائے تقسیم، کچھ لوگ فیصلے کے مخالف
درختوں کی کٹائی کے معاملے پر ہنوئی کے شہریوں کی آرا مختلف ہیں۔ جہاں بعض افراد خوشبو کی شدت سے پریشان ہیں، وہیں دوسرے شہری ان درختوں کو شہر کی خوبصورتی اور موسمی شناخت کا اہم حصہ قرار دیتے ہیں۔
فیصلے کے مخالف شہریوں کا مؤقف ہے کہ ان درختوں کی خوشبو ہنوئی کے موسمِ خزاں کو منفرد بناتی ہے۔ ان کے نزدیک صرف شکایات کی بنیاد پر شاخیں کاٹنے کے بجائے ایسا حل تلاش کیا جانا چاہیے جس سے شہریوں کی مشکلات بھی کم ہوں اور شہر کی قدرتی خوبصورتی بھی برقرار رہے۔
یہ معاملہ شہری ماحول، درختوں کے تحفظ اور عوامی سہولت کے درمیان توازن قائم رکھنے کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ انتظامیہ کے لیے چیلنج یہ ہے کہ شہریوں کی شکایات کا ازالہ کرتے ہوئے شہر کے قدرتی حسن کو بھی نقصان سے بچایا جائے۔
ماہرین کی رائے کیا ہے؟
ماہرین کے مطابق ان درختوں کی خوشبو کو زہریلا قرار نہیں دیا گیا، تاہم درختوں کے پولن سے بعض حساس افراد میں الرجی کی علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔ مختلف افراد کی حساسیت مختلف ہوتی ہے، اس لیے کسی خوشبو کے بارے میں تجربات بھی ایک جیسے نہیں ہوتے۔
ماحولیاتی ماہرین کے عمومی مؤقف کے مطابق شہری علاقوں میں درختوں کی دیکھ بھال اور ان سے پیدا ہونے والی ممکنہ پریشانیوں کا حل سائنسی معلومات اور مقامی حالات کو مدنظر رکھ کر تلاش کیا جانا چاہیے۔
ہنوئی میں شروع کی گئی یہ مہم اس بات کی مثال ہے کہ شہر کی خوبصورتی کے لیے اہم سمجھے جانے والے درخت بھی بعض حالات میں عوامی شکایات کا موضوع بن سکتے ہیں۔ اب یہ دیکھنا ضروری ہوگا کہ شاخوں کی کٹائی اور درختوں کی منتقلی سے خوشبو کی شدت میں کتنی کمی آتی ہے اور انتظامیہ شہریوں کی سہولت کے ساتھ شہر کی موسمی شناخت کو کس طرح محفوظ رکھتی ہے۔
