وزیراعظم سے چین کے کاروباری وفد کی ملاقات، دوطرفہ تعاون پر اظہار اطمینان
وفد کی پاکستان آمد پر وزیرِ اعظم نے ان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات تاریخی اور گہرے نوعیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے صدر شی جن پنگ کی قیادت میں چین کی تیز رفتار ترقی کو سراہا اور اس بات کا اظہار کیا کہ وہ رواں ماہ کے اختتام پر اپنے آئندہ دورۂ چین کے لیے پرجوش ہیں۔
وزیرِ اعظم نے آئی بی آئی گروپ کی جانب سے پاکستان میں ڈیجیٹل اکانومی ہیڈکوارٹر کے قیام کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا اور دونوں ممالک کے درمیان کاروباری تعاون اور سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے رجحان پر اطمینان کا اظہار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے نہ صرف معاشی شراکت داری کو فروغ ملے گا بلکہ صنعتی تعاون اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے، جو خطے کی اقتصادی ترقی میں مددگار ثابت ہوں گے۔
دوسری جانب چیان شیاو جون نے پاکستان کی معیشت میں اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئی بی آئی گروپ پاکستان میں ڈیجیٹل اصلاحات کے عمل میں تعاون بڑھانا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں ڈیجیٹل اکانومی ہیڈکوارٹر کا قیام ایک اہم پیش رفت ہے، جو چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) کو چینی منڈیوں تک رسائی میں مدد دے گا اور نئے امکانات پیدا کرے گا۔
یہ وفد وزیراعظم کے ستمبر 2025 میں دورۂ بیجنگ کے دوران ہونے والی پاکستان-چین بزنس ٹو بزنس سرمایہ کاری کانفرنس کے تسلسل میں پاکستان آیا ہے۔
اس موقع پر وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ، وزیرِ تجارت جام کمال خان، وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کام شزہ فاطمہ خواجہ، وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک، معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، معاون خصوصی طارق فاطمی سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی اجلاس میں شریک تھے۔