پریشے عدنان کے انٹرویو میں جم کے لباس سے متعلق سوال، نادیہ خان پر تنقید

کراچی: نیویارک فیشن ویک میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی پاکستانی فیشن ڈیزائنر پریشے عدنان نے ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران پوچھے گئے بعض سوالات پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر پاکستانی فیشن اور ثقافت کو اجاگر کرنے کے بعد ان سے گفتگو میں ان کے پیشہ ورانہ کام کے بجائے ذاتی نوعیت کے موضوعات کو زیادہ اہمیت دی گئی۔

حال ہی میں ٹی وی میزبان نادیہ خان نے عامر عدنان برانڈ کی چیف ایگزیکٹو آفیسر پریشے عدنان سے گفتگو کی۔ انٹرویو کے دوران ڈیزائنر کے فیشن سے متعلق کام، ان کے تجربات اور دیگر موضوعات کے ساتھ ان کی ذاتی زندگی اور فٹنس سے متعلق سوالات بھی کیے گئے۔

گفتگو کے ایک حصے میں نادیہ خان نے پریشے عدنان سے ان کے جم کلیکشن کے بعض ڈیزائنز کے حوالے سے سوال کیا اور پوچھا کہ کیا ان کے والدین ایسے نسبتاً بولڈ ملبوسات کی تیاری پر رضامند ہیں۔

اس سوال کے جواب میں پریشے عدنان نے کہا کہ انہیں اپنے والدین کی جانب سے ہمیشہ مکمل حمایت حاصل رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کے کام کے حوالے سے والدین کا رویہ حوصلہ افزا رہا ہے۔

پریشے عدنان نے کیا مؤقف اختیار کیا؟

پریشے عدنان کے مطابق انہیں اس بات پر تحفظات ہیں کہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرنے اور فیشن کے میدان میں ملک کا نام اجاگر کرنے کے بعد وطن واپسی پر گفتگو کا مرکز ان کے جم کے لباس اور سوشل میڈیا پر موجود فٹنس ویڈیوز بن گئے۔

فیشن ڈیزائنر نے اپنے مؤقف میں کہا کہ کسی فنکار یا ڈیزائنر کی پیشہ ورانہ کامیابیوں اور عالمی سطح پر اس کے کام کو اجاگر کرنے کے بجائے ذاتی نوعیت کے سوالات کو گفتگو کا مرکزی موضوع بنانا مناسب نہیں۔

ان کے مطابق نیویارک فیشن ویک میں پاکستان کی نمائندگی ان کے کیریئر کا ایک اہم مرحلہ تھا، جہاں انہوں نے اپنے کام کے ذریعے پاکستانی فیشن اور ثقافت کو عالمی سطح پر پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے مواقع پر گفتگو میں تخلیقی کام، فیشن انڈسٹری اور پاکستان کی نمائندگی جیسے موضوعات کو زیادہ جگہ ملنی چاہیے۔

سوشل میڈیا پر بھی گفتگو جاری

پریشے عدنان کے مؤقف کے بعد سوشل میڈیا پر بھی اس انٹرویو کے حوالے سے بحث شروع ہوگئی۔ متعدد صارفین نے فیشن ڈیزائنر کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرنے والی شخصیت سے گفتگو میں اس کے پیشہ ورانہ سفر اور کامیابیوں سے متعلق سوالات کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

دوسری جانب کچھ صارفین نے انٹرویو میں ذاتی نوعیت کے سوالات کیے جانے کے معاملے پر مختلف آرا کا اظہار بھی کیا۔ یوں یہ معاملہ سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بن گیا۔

یاسر حسین کا ردعمل

اداکار یاسر حسین نے بھی اس معاملے پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ انہوں نے انٹرویو میں موضوعات کے انتخاب پر سوال اٹھاتے ہوئے انٹرویو لینے والوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب پریشے عدنان نیویارک فیشن ویک میں پاکستان کی نمائندگی کے بعد وطن واپس آئی تھیں۔ ان کی جانب سے انٹرویو میں پوچھے گئے سوالات پر تحفظات کے اظہار نے ایک مرتبہ پھر اس بحث کو نمایاں کردیا ہے کہ شوبز اور فیشن شخصیات کے انٹرویوز میں پیشہ ورانہ کامیابیوں اور ذاتی زندگی کے درمیان کس حد تک توازن رکھا جانا چاہیے۔

واضح رہے کہ پریشے عدنان فیشن کے شعبے میں کام کر رہی ہیں اور عامر عدنان برانڈ کی سی ای او کے طور پر بھی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہیں۔ نیویارک فیشن ویک میں پاکستان کی نمائندگی کے بعد ان سے متعلق یہ انٹرویو سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کر رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *