متنازع پالیسی کے تحت امریکا نے تارکین وطن کو افریقی جنگ زدہ ملک بھیج دیا
امریکا: مختلف ممالک کے تارکین وطن کو وسطی افریقی جمہوریہ منتقل کیے جانے کا انکشاف
امریکی حکام کی جانب سے افغانستان، ایران اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریباً 20 تارکین وطن کو وسطی افریقی جمہوریہ (Central African Republic) منتقل کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان افراد میں دو ایرانی خواتین بھی شامل تھیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وسطی افریقی جمہوریہ ایک ایسا خطہ ہے جسے سیکیورٹی کے لحاظ سے انتہائی خطرناک قرار دیا جاتا ہے اور اسے امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے لیول 4 یعنی شدید خطرے والے ممالک کی فہرست میں رکھا گیا ہے۔ اس سطح کی ایڈوائزری میں شہریوں کو واضح طور پر کسی بھی مقصد کے لیے وہاں سفر نہ کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔
امیگریشن سے متعلق ایک وکیل نے دعویٰ کیا ہے کہ جلاوطن کیے جانے والے افراد میں ایک ایرانی سیاسی کارکن بھی شامل ہے جو امریکا میں پناہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا اور اسے قانونی تحفظ بھی حاصل تھا۔
وسطی افریقی جمہوریہ طویل عرصے سے سیاسی عدم استحکام، مسلح جھڑپوں اور انسانی بحران جیسے مسائل کا شکار ہے، جس کے باعث یہ دنیا کے کمزور ترین معاشی اور سیکیورٹی حالات رکھنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کی ایڈوائزری کے مطابق اس ملک میں اغوا، جرائم، دہشت گردی اور صحت کے سنگین خطرات موجود ہیں، اور صورتحال کے پیش نظر وہاں سفر کرنے سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔
ایک امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان افراد میں آرمینیا اور عراق سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن بھی شامل تھے جنہیں اسی خطے میں منتقل کیا گیا ہے۔