پنجاب کے شہر سمبڑیال میں ایک غیرمعمولی واقعہ سامنے آیا، جہاں ایک شہری کو سرکاری ریکارڈ میں غلطی یا مبینہ جعلسازی کے نتیجے میں مردہ ظاہر کر دیا گیا۔ حیرت انگیز طور پر اس شخص کے نام سے ڈیتھ سرٹیفیکیٹ بھی جاری ہو گیا، جس کے بعد اس کی جائیداد سے متعلق قانونی کارروائی شروع کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
ذرائع کے مطابق متاثرہ شہری نبی احمد کے انتقال کا اندراج سرکاری دستاویزات میں کر دیا گیا تھا، جس کے باعث زمین کی وراثت اور انتقال کے عمل کو آگے بڑھانے کی تیاریاں بھی شروع کر دی گئیں۔ اطلاعات کے مطابق معاملے کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے تدفین سے متعلق انتظامات کیے گئے اور جنازہ ادا کیے جانے کا بھی دعویٰ کیا گیا۔
تاہم معاملے نے اس وقت غیرمتوقع رخ اختیار کیا جب نبی احمد خود زندہ حالت میں اسسٹنٹ کمشنر سمبڑیال کے دفتر پہنچ گئے۔ انہیں اپنے سامنے دیکھ کر متعلقہ حکام حیران رہ گئے، کیونکہ سرکاری ریکارڈ میں انہیں پہلے ہی فوت شدہ قرار دیا جا چکا تھا۔
اسسٹنٹ کمشنر نے فوری طور پر واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے نبی احمد کی زمین سے متعلق جاری انتقالی کارروائی روکنے کے احکامات جاری کر دیے۔ ساتھ ہی متعلقہ محکموں سے مکمل ریکارڈ طلب کر لیا گیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ایک زندہ شخص کو سرکاری دستاویزات میں مردہ کیسے ظاہر کیا گیا اور اس کی بنیاد پر قانونی کارروائی کس طرح شروع ہوئی۔
انتظامیہ نے واقعے کی باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ ابتدائی طور پر ریکارڈ کی جانچ، متعلقہ افسران کے کردار اور تمام قانونی دستاویزات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اگر تحقیقات کے دوران غفلت، جعلسازی یا اختیارات کے ناجائز استعمال کے شواہد سامنے آئے تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
قانونی ماہرین کے مطابق کسی زندہ شخص کو سرکاری ریکارڈ میں فوت شدہ ظاہر کرنا نہ صرف انتظامی نظام کی سنگین خامی کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں جائیداد، وراثت اور دیگر شہری حقوق بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات میں شفاف تحقیقات اور ذمہ دار عناصر کا تعین انتہائی ضروری ہے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔
