لاہور میں خواتین کے لیے رکشہ ڈرائیونگ تربیتی پروگرام، 34 خواتین مستفید

لاہور: خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانے اور روزگار کے نئے مواقع فراہم کرنے کے لیے لاہور ٹریفک پولیس نے رکشہ ڈرائیونگ کی تربیت کا پروگرام شروع کیا ہے، جس کے تحت 34 خواتین کو رکشہ چلانے کی تربیت فراہم کی گئی ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات کی روشنی میں شروع کیے گئے اس پروگرام کا مقصد خواتین کو ڈرائیونگ کی عملی مہارتیں سکھانے کے ساتھ انہیں روزگار کے قابل بنانا اور معاشی خودمختاری کی جانب آگے بڑھنے میں مدد دینا ہے۔

بحریہ ٹاؤن اور مناواں میں خواتین کو تربیت

لاہور ٹریفک پولیس نے ایک نجی یونیورسٹی کے اشتراک سے اس تربیتی پروگرام کا اہتمام کیا۔ اس سلسلے میں ڈرائیونگ اسکول بحریہ ٹاؤن اور مناواں میں خواتین کو رکشہ چلانے کی تربیت دی گئی، تاکہ وہ یہ ہنر سیکھ کر اپنے لیے آمدن کے ذرائع پیدا کرسکیں۔

پروگرام کے تحت تربیت حاصل کرنے والی خواتین کو عملی ڈرائیونگ کی مہارت فراہم کی گئی ہے۔ اس اقدام کو خواتین کے لیے روزگار کے متبادل مواقع پیدا کرنے اور انہیں روایتی معاشی انحصار سے نکلنے میں معاون قرار دیا جارہا ہے۔

خواتین کو خود روزگار کے قابل بنانا بنیادی مقصد ہے، سی ٹی او لاہور

چیف ٹریفک آفیسر لاہور سید عبدالرحیم شیرازی کے مطابق رکشہ ڈرائیونگ تربیتی پروگرام کا بنیادی ہدف خواتین کو باعزت روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تربیت مکمل کرنے والی خواتین رکشہ چلا کر اپنی آمدن حاصل کرسکیں گی اور اپنے خاندانوں کی معاشی ضروریات پوری کرنے میں بھی حصہ ڈال سکیں گی۔

انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کا دائرہ صرف ڈرائیونگ سکھانے تک محدود نہیں، بلکہ خواتین کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے، اعتماد کے ساتھ عملی زندگی میں آگے بڑھنے اور معاشی طور پر خودمختار بننے کے مواقع فراہم کرنا بھی اس کا اہم حصہ ہے۔

سید عبدالرحیم شیرازی کے مطابق معاشرے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے خواتین اور مردوں دونوں کا کردار اہم ہے۔ خواتین کو ہنر اور روزگار کے مواقع فراہم کرکے نہ صرف ان کی انفرادی زندگی میں بہتری لائی جاسکتی ہے بلکہ خاندانوں اور مجموعی معاشرے کی معاشی ترقی میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ لاہور ٹریفک پولیس خواتین کو بااختیار بنانے، انہیں ڈرائیونگ کی تربیت فراہم کرنے اور معاشی استحکام کے لیے مزید مواقع پیدا کرنے کی کوششیں جاری رکھے گی۔

لاہور میں 16 ہزار سےزیادہ خواتین ڈرائیونگ سیکھ چکی ہیں

لاہور ٹریفک پولیس کے مطابق خواتین کو ڈرائیونگ سکھانے کے لیے شہر میں کار اور اسکوٹی کے 12 تربیتی اسکول قائم کیے جاچکے ہیں۔ ان مراکز کے ذریعے اب تک 16 ہزار سے زائد خواتین کو کار اور اسکوٹی چلانے کی تربیت دی جاچکی ہے۔

رکشہ ڈرائیونگ پروگرام کو خواتین کی تربیت کے اسی سلسلے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔ اس کے ذریعے خواتین کے لیے ڈرائیونگ کی مہارت کو باقاعدہ روزگار میں تبدیل کرنے کے امکانات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ماہرین کے نزدیک خواتین کو پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنا معاشی شمولیت بڑھانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ تاہم ایسے پروگراموں کی افادیت میں مزید اضافے کے لیے تربیت کے بعد روزگار تک رسائی، محفوظ کام کے ماحول اور مناسب معاشی مواقع کی فراہمی بھی اہم ہوگی۔

لاہور میں شروع کیا گیا یہ اقدام خواتین کو روایتی ہنر سے آگے بڑھ کر روزگار کے نئے شعبوں میں اپنی صلاحیتیں آزمانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اگر اس طرح کے تربیتی پروگراموں کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو خواتین کی معاشی خودمختاری اور عملی زندگی میں شرکت کو مزید فروغ مل سکتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *