امریکی حملوں میں مزید جانی نقصان، ایران کے جوابی اقدامات کے دعوے
ایران کے جنوبی صوبے ہرمزگان میں امریکی فضائی حملوں کے نتیجے میں مزید 3 افراد کے جاں بحق اور 8 کے زخمی ہونے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ اسی دوران ایران نے امریکی اور اتحادی اہداف کے خلاف مختلف جوابی کارروائیوں کا اعلان بھی کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سے ایک روز قبل بھی اسی صوبے میں ہونے والے حملوں میں 8 شہری ہلاک ہوئے تھے، جن میں خواتین اور دیگر عام شہری شامل تھے۔
دوسری جانب کویتی فوج نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس نے اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے متعدد بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کو ناکارہ بنایا۔ فوج کے مطابق بعض حملوں میں بجلی اور سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے والے پلانٹس سمیت اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ چند فوجی زخمی ہوئے تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے امریکی کارروائیوں کے جواب میں اردن میں موجود ایک امریکی فوجی اڈے پر میزائل حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس حملے میں متعدد امریکی اہلکار زخمی ہوئے، تاہم کسی ہلاکت کی تصدیق نہیں ہوئی۔ بعض بین الاقوامی رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حملے سے قبل اڈے سے مکمل انخلا نہیں کیا گیا تھا۔
ادھر ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ بوشہر کے فضائی علاقے میں جدید دفاعی نظام کے ذریعے ایک امریکی MQ-9 ڈرون کو مار گرایا گیا۔
پاسدارانِ انقلاب نے مزید دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے چار ٹینکرز کو میزائل اور ڈرون کارروائی کے ذریعے روک دیا گیا، جبکہ آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں دو تیل بردار جہاز دھماکوں کے باعث تباہ ہوگئے۔
نوٹ: مذکورہ اطلاعات مختلف ایرانی، علاقائی اور بین الاقوامی ذرائع سے منسوب دعووں پر مبنی ہیں، جن کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق سامنے نہیں آئی۔
