غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی شہریوں کی صورتحال بدستور تشویشناک ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف مہلک کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیلی فوج پر فلسطینی شہریوں کو جان بوجھ کرنشانہ بنانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ تحریری ریکارڈ میں فلسطینی آبادی کے خلاف کارروائیوں سے متعلق سنگین خدشات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔
مغربی کنارے میں فضائی حملوں سے اموات میں اضافہ
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں 7 اکتوبر 2023 کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے میں پیدا ہونے والی صورتحال کا گزشتہ برسوں سے موازنہ کیا گیا ہے۔ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2008 سے اکتوبر 2023 تک اس علاقے میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں 6 فلسطینی شہید ہوئے تھے۔
اس کے برعکس اکتوبر 2023 سے ستمبر 2026 تک فضائی حملوں میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 254 بتائی گئی ہے۔۔
رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ فلسطینی شہریوں کو ان کی قومیت، نسل، جنس اور عمر کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیلی فوج اور یہودی آبادکاروں کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف حملوں کو منظم کارروائیوں کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
جبری بے دخلی اور جنسی تشدد سے متعلق خدشات
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں فلسطینیوں کو ان کے گھروں اور آبائی علاقوں سے بے دخل کرنے کے معاملے پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ دستاویز کے مطابق جنسی تشدد کو بعض واقعات میں فلسطینی آبادی کو خوف زدہ کرنے اور انہیں اپنے علاقوں سے نکلنے پر مجبور کرنے کے لیے استعمال کیے جانے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ میں غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں بچوں کی اموات کا معاملہ بھی اٹھایا گیا ہے۔ اس میں الزام لگایا گیا ہے کہ فلسطینی بچوں سمیت عام شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس سے انسانی حقوق اور شہریوں کے تحفظ سے متعلق سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
