ایرانی وزیر خارجہ کی اقوام متحدہ پر تنقید، عالمی ادارے پر اعتماد میں کمی کا دعویٰ

نیویارک: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی امن و سلامتی کے تحفظ میں عالمی ادارہ مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہا، جس کے نتیجے میں اس پر اعتماد کو نقصان پہنچا ہے۔

عباس عراقچی کا یہ مؤقف نیویارک آمد کے بعد سامنے آیا، جہاں وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ایرانی وفد کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ 81ویں جنرل اسمبلی کا جنرل ڈیبیٹ 22 سے 26 ستمبر 2026 تک جاری رہے گا اور اس سال اجلاس کا مرکزی موضوع ’’اعتماد کی بحالی، تبدیلی کا نظم اور سب کے لیے مؤثر اقوام متحدہ‘‘ رکھا گیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں اقوام متحدہ کے کردار اور اس کی مؤثریت پر مختلف سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایران جنرل اسمبلی کے پلیٹ فارم کو اپنے عوام کے حقوق، قومی مفادات اور عالمی معاملات سے متعلق اپنے مؤقف کو دنیا کے سامنے رکھنے کے لیے استعمال کرے گا۔

اقوام متحدہ کے کردار پر ایرانی وزیر خارجہ کے تحفظات

عباس عراقچی نے عالمی ادارے کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ عالمی امن اور سلامتی کے تحفظ کے بنیادی مقصد کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے میں مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔

انہوں نے جنرل اسمبلی کے رواں اجلاس کے موضوع ’’اعتماد کی بحالی‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خود اس موضوع کا انتخاب عالمی اداروں پر اعتماد سے متعلق موجودہ بحث کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے صدر خلیل الرحمن نے بھی رواں ماہ اجلاس کے افتتاح کے موقع پر ادارے پر اعتماد بحال کرنے اور اس کی کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

ایران کا عالمی قوانین سے متعلق مؤقف

ایرانی وزیر خارجہ نے الزام عائد کیا کہ بعض ممالک بین الاقوامی قوانین اور عالمی اداروں کے اصولوں سے خود کو بالاتر سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض ریاستوں اور ان کے اتحادیوں کو ان کے اقدامات پر مؤثر احتساب کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

عباس عراقچی نے مغربی اور یورپی ممالک کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی حمایت کا دعویٰ کرنے والے ممالک موجودہ تنازعات کے دوران اپنے مؤقف پر عملدرآمد نہیں کر رہے۔

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اعلیٰ سطحی اجلاس جاری ہے اور دنیا کے مختلف خطوں میں جاری تنازعات کے باعث عالمی سفارت کاری پر توجہ مرکوز ہے۔ رواں اجلاس میں ایران، یوکرین، مشرق وسطیٰ اور دیگر عالمی بحرانوں سمیت کئی اہم معاملات زیر بحث آنے ہیں۔

ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطوں پر بھی توجہ

ایران کے وزیر خارجہ کے بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی امکانات پر بھی بات کی جا رہی ہے۔

رائٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر مختلف عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں کا پروگرام بنایا ہے، جبکہ ایران سے متعلق سفارتی رابطے بھی عالمی اجلاس کے اہم موضوعات میں شامل ہیں۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان بھی اقوام متحدہ کی 81ویں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچنے والے ہیں۔ ایرانی صدارتی دفتر کے مطابق ان کا دورہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت اور عالمی معاملات پر ایرانی مؤقف پیش کرنے کے لیے ہے۔

جنرل اسمبلی میں ایران کا مؤقف اہم توجہ کا مرکز

تجزیاتی طور پر دیکھا جائے تو جنرل اسمبلی کا موجودہ اجلاس ایسے ماحول میں ہو رہا ہے جب عالمی اداروں کے کردار، بین الاقوامی قوانین کے نفاذ اور مختلف تنازعات کے حل کے لیے کثیر ملکی سفارت کاری پر بحث جاری ہے۔

ایران کی جانب سے اقوام متحدہ کے کردار پر اٹھائے گئے سوالات بھی اسی وسیع تر سفارتی بحث کا حصہ ہیں۔ تاہم عالمی ادارے کی کارکردگی سے متعلق ایرانی حکومت کا مؤقف ایک فریق کا مؤقف ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے حکام نے موجودہ اجلاس میں ادارے میں اعتماد بحال کرنے، اصلاحات اور مؤثر عالمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *