بیونس آئرس: فیفا ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں انگلینڈ کے خلاف کامیابی کے بعد ارجنٹائن کی قومی فٹبال ٹیم ایک نئے تنازع کا سامنا کر سکتی ہے، کیونکہ میچ کے بعد ہونے والے جشن میں استعمال ہونے والے ایک بینر پر عالمی فٹبال قوانین کے تناظر میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
میچ ختم ہونے کے بعد ارجنٹائنی کھلاڑی جشن کے دوران ایک ایسا بینر اٹھائے ہوئے دکھائی دیے جس میں فاک لینڈ (مالویناس) جزائر سے متعلق سیاسی مؤقف کا اظہار کیا گیا تھا۔ یہ جزائر برطانیہ کے انتظام میں ہیں، جبکہ ارجنٹائن کئی دہائیوں سے ان پر اپنا دعویٰ برقرار رکھے ہوئے ہے۔
فاک لینڈ جزائر کا معاملہ دونوں ممالک کے درمیان ایک حساس تنازع ہے، جس پر 1982 میں مسلح تصادم بھی ہو چکا تھا۔ اسی پس منظر کے باعث کھیلوں کے میدان میں اس نوعیت کے سیاسی پیغامات کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔
فیفا کے ضوابط کھیلوں کی سرگرمیوں کے دوران سیاسی یا متنازع پیغامات کی تشہیر کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ ماضی میں بھی اسی نوعیت کے واقعے پر ارجنٹائن فٹبال ایسوسی ایشن کو تادیبی کارروائی اور جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے باعث اس بار بھی ممکنہ کارروائی پر قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب ارجنٹائن کی نائب صدر وکٹوریہ ویارویل نے سوشل میڈیا پر بینر کی حمایت کرتے ہوئے فاک لینڈ جزائر پر ارجنٹائن کے مؤقف کا اعادہ کیا۔ اس کے برعکس قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ لیونل اسکالونی نے اس سے قبل اپنے بیان میں زور دیا تھا کہ فٹبال کو سیاسی معاملات سے الگ رکھا جانا چاہیے اور کھلاڑیوں کی تمام تر توجہ کھیل پر مرکوز رہنی چاہیے۔
یاد رہے کہ ارجنٹائن نے سیمی فائنل میں سخت مقابلے کے بعد انگلینڈ کو 2-1 سے شکست دے کر ورلڈ کپ کے فائنل کے لیے کوالیفائی کیا۔
