لاہور: رائیڈ کے دوران تلخی، خاتون کا نمبر رشتہ ایپ پر ڈالنے والا رکشہ ڈرائیور گرفتار

لاہور: آن لائن رکشہ رائیڈ کے دوران خاتون سے ہونے والی تلخی کے بعد مبینہ طور پر اس کا موبائل نمبر رشتہ ایپ پر درج کرنے والے رکشہ ڈرائیور کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔

پولیس کے مطابق واقعہ آن لائن رکشہ سروس کے ذریعے حاصل کی گئی ایک رائیڈ کے دوران پیش آیا، جہاں خاتون اور ڈرائیور کے درمیان کسی معاملے پر بحث ہوئی۔ رائیڈ ختم ہونے کے بعد معاملہ بظاہر ختم ہوگیا، تاہم مبینہ طور پر ڈرائیور نے خاتون سے ہونے والی تلخی کا بدلہ لینے کے لیے اس کا موبائل نمبر ایک رشتہ ایپ پر اپ لوڈ کردیا۔

خاتون کا نمبر ایپ پر ظاہر ہونے کے بعد اسے نامعلوم افراد کی جانب سے مسلسل فون کالز موصول ہونا شروع ہوگئیں۔ غیر ضروری کالز کا سلسلہ بڑھنے پر خاتون نے معاملے کی شکایت متعلقہ حکام سے کی اور پولیس سے کارروائی کی درخواست کی۔

خاتون نے اپنی شکایت ڈی آئی جی آپریشنز کی کھلی کچہری میں بھی پیش کی، جہاں معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو حقائق سامنے لانے کے لیے تحقیقات کی ہدایت کی گئی۔

پولیس حکام کے مطابق ابتدائی تفتیش کے دوران رکشہ ڈرائیور لطیف کے خلاف خاتون کا موبائل نمبر رشتہ ایپ پر درج کرنے سے متعلق شواہد سامنے آئے۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد نشتر کالونی پولیس نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔

پولیس نے مقدمہ درج کرنے کے بعد کارروائی کرتے ہوئے رکشہ ڈرائیور لطیف کو گرفتار کرلیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے اور معاملے کے تمام پہلوؤں کا چھانبین جا ری ہے۔

ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق خواتین کو ہراساں کرنے، ان کی نجی معلومات کو غیر مجاز طریقے سے استعمال کرنے یا کسی بھی شہری کی پرائیویسی متاثر کرنے والے اقدامات کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔ شہریوں کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات پر قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔

حکام نے شہریوں پر بھی زور دیا ہے کہ کسی کی ذاتی معلومات، موبائل نمبر یا دیگر نجی تفصیلات اس کی اجازت کے بغیر کسی پلیٹ فارم پر شیئر نہ کی جائیں۔ ایسی معلومات کا غلط استعمال متاثرہ فرد کے لیے ذہنی پریشانی اور ہراسانی کا سبب بن سکتا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ شہریوں کی شکایات پر بروقت کارروائی اور شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ خواتین کے تحفظ، عزت اور نجی معلومات کی حفاظت کے لیے قانون کےماتحت اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *