لندن: انگلینڈ میں جنگلی حیات کے تحفظ سے وابستہ ادارے کو ایک غیر معمولی واردات کا سامنا ہے، جہاں نامعلوم افراد ایک قدرتی محفوظ علاقے سے نایاب چیونٹیوں کا مکمل بل نکال کر لے گئے۔ اس بل میں ایک ہزار سے پانچ ہزار تک چیونٹیاں موجود ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ ڈیون کاؤنٹی کے چڈلی نائٹن ہیتھ نیچر ریزرو میں پیش آیا، جہاں سے نیرو ہیڈڈ اینٹس (Narrow-headed Ants) کی ایک پوری کالونی غائب کردی گئی۔ ڈیون وائلڈ لائف ٹرسٹ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ چیونٹیوں کا بل کسی اجازت کے بغیر محفوظ مقام سے ہٹایا گیا۔
ادارے کے مطابق یہ مقام انگلینڈ میں اس نایاب نسل کی موجودگی کے آخری بڑے قدرتی ٹھکانوں میں شمار ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے کالونی کی چوری کو جنگلی حیات کے تحفظ کے حوالے سے انتہائی تشویش ناک واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ڈیون وائلڈ لائف ٹرسٹ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بتایا کہ ایک مکمل بل میں ہزاروں چیونٹیاں رہ سکتی ہیں، جن میں افزائش نسل کی ذمہ داری ادا کرنے والی ملکہ چیونٹیاں بھی شامل ہوتی ہیں۔ یہ ملکہ چیونٹیاں تقریباً پچیس سال تک زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور کالونی کی بقا میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق کسی چیونٹیوں کی کالونی میں ملکہ کی موجودگی انتہائی اہم ہوتی ہے، کیونکہ اسی کے ذریعے نئی نسل پیدا ہوتی ہے اور پوری آبادی کا تسلسل برقرار رہتا ہے۔ اگر ملکہ سمیت مکمل کالونی ختم ہوجائے یا اسے اس کے قدرتی ماحول سے الگ کردیا جائے تو اس کے اثرات طویل عرصے تک برقرار رہ سکتے ہیں۔
وائلڈ لائف ٹرسٹ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایک مکمل بل کی چوری سے پہلے ہی کم تعداد میں موجود اس نایاب نسل کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ قدرتی ماحول میں ایسی کالونیوں کی بحالی آسان نہیں ہوتی، خصوصاً اس وقت جب ان کا مسکن محدود ہو۔
چڈلی نائٹن ہیتھ نیچر ریزرو کو انگلینڈ میں خصوصی سائنسی اہمیت رکھنے والے قدرتی علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہاں موجود نایاب حشرات اور دیگر جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات کیے جاتے ہیں۔
نیرو ہیڈڈ اینٹس بھی برطانیہ میں تحفظ کی خصوصی توجہ حاصل کرنے والی نایاب چیونٹیوں میں شامل ہیں۔ ان کی قدرتی آبادی محدود ہونے کے باعث ان کے مسکن کو نقصان پہنچنے یا کالونیوں کی غیر قانونی منتقلی سے نسل کے مستقبل کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
واقعے کے بعد جنگلی حیات کے تحفظ کے ادارے نے اس غیر معمولی چوری پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ حکام کے لیے اب اہم سوال یہ ہے کہ ہزاروں چیونٹیوں پر مشتمل اس کالونی کو کس مقصد کے تحت وہاں سے منتقل کیا گیا اور آیا اسے دوبارہ قدرتی ماحول میں واپس لانا ممکن ہوگا۔
یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نایاب جنگلی حیات کا تحفظ صرف بڑے جانوروں اور پرندوں تک محدود نہیں بلکہ چھوٹے حشرات کی قدرتی آبادی اور ان کے مسکن کی حفاظت بھی ماحولیاتی توازن کے لیے انتہائی ضروری ہے
