چاول کی برآمدات میں پاکستان کی بڑی کامیابی، ستمبر میں ویتنام کو پیچھے چھوڑ دیا

اسلام آباد: عالمی سطح پر معاشی اور تجارتی چیلنجز کے باوجود پاکستان کی چاول کی برآمدات میں نمایاں بہتری سامنے آئی ہے۔ ستمبر 2026 کے دوران پاکستان نے چاول کی برآمدات کے حجم میں ویتنام کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اہم کامیابی حاصل کی، جسے ملکی زرعی شعبے اور برآمدی تجارت کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2026 میں پاکستان سے مجموعی طور پر 4 لاکھ 20 ہزار ٹن چاول بیرون ملک بھیجا گیا، جبکہ اسی عرصے میں ویتنام کی چاول برآمدات کا حجم 3 لاکھ 37 ہزار ٹن رہا۔ اس طرح ماہانہ برآمدات کے اعتبار سے پاکستان نے اپنے اہم حریف کو پیچھے چھوڑ دیا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خلیجی خطے میں کشیدگی، امریکا اور ایران کے درمیان تناؤ اور اہم بحری تجارتی راستوں میں رکاوٹوں کے باعث بین الاقوامی تجارت کو مختلف مشکلات کا سامنا رہا۔ ان حالات کے باوجود پاکستانی چاول کی عالمی منڈی میں طلب برقرار رہنا ملکی برآمدی شعبے کے لیے حوصلہ افزا قرار دیا جا رہا ہے۔

خصوصاً پاکستانی باسمتی چاول نے عالمی خریداروں کی توجہ حاصل کیے رکھی۔ اپنے ذائقے، خوشبو اور معیار کی وجہ سے پاکستانی باسمتی چاول بین الاقوامی مارکیٹ میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے، جبکہ اس کی طلب برقرار رہنے سے برآمد کنندگان کو عالمی سطح پر کاروباری مواقع میسر آئے ہیں۔

مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی کے اعداد و شمار بھی چاول کی برآمدات میں بہتری کی عکاسی کرتے ہیں۔ جولائی سے ستمبر 2026 کے دوران گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں برآمد کیے جانے والے چاول کی مقدار میں 51 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اسی طرح مذکورہ تین ماہ کے دوران چاول کی بیرون ملک فروخت سے حاصل ہونے والے زرمبادلہ میں بھی 37 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان نہ صرف برآمدات کا حجم بڑھانے میں کامیاب رہا بلکہ اس شعبے سے حاصل ہونے والی آمدنی میں بھی بہتری آئی ہے۔

معاشی نقطہ نظر سے چاول کی برآمدات میں اضافہ پاکستان کے لیے اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ زرعی مصنوعات کی بیرون ملک فروخت سے قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ چاول کی پیداوار سے وابستہ کسانوں، ملز مالکان، تاجروں، ٹرانسپورٹرز اور برآمد کنندگان کے کاروبار کو بھی تقویت ملتی ہے۔

پاکستان کے لیے عالمی چاول مارکیٹ میں اپنی پوزیشن مزید مستحکم کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ بین الاقوامی سطح پر بھارت، ویتنام اور تھائی لینڈ جیسے ممالک سے سخت مقابلہ درپیش ہے۔ ایسے میں برآمدات میں مسلسل اضافہ، بہتر معیار اور نئی منڈیوں تک رسائی ملکی تجارتی شعبے کے لیے اہم عوامل بن سکتے ہیں۔

مجموعی طور پر ستمبر 2026 میں ویتنام کے مقابلے میں زیادہ چاول برآمد کرنا پاکستان کی تجارتی کارکردگی میں ایک قابل ذکر کامیابی ہے۔ اگر یہی رجحان برقرار رہتا ہے تو پاکستان عالمی چاول مارکیٹ میں اپنی موجودگی مزید مضبوط بنانے اور زرعی برآمدات سے زیادہ زرمبادلہ حاصل کرنے کی پوزیشن میں آسکتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *