چین میں ہسپانوی فٹبال لیگ لالیگا کے میچز کی نشریات روکنے کا اعلان سامنے آیا ہے۔ یہ اقدام ریال میڈرڈ کے فرانسیسی فٹبال اسٹار کائیلیان ایمباپے سے منسوب ایک متنازع بیان کے بعد کیا گیا، جس میں چین کے سابق رہنما ماؤ زے تنگ کا ذکر ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ہسپانوی نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق چین کے سرکاری نشریاتی ادارے چائنا میڈیا گروپ (سی ایم جی) نے لالیگا کے میچز نشر نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ادارے کی جانب سے ایمباپے سے متعلق اشتہارات کی نشریات روکنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

چین میں لالیگا کی نشریات کیوں معطل ہوئیں؟

رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں ایمباپے کے ایسے تبصرے سامنے آئے جن میں چین کے سابق رہنما ماؤ زے تنگ کا حوالہ دیا گیا تھا۔ اس ویڈیو کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کے تناظر میں چینی نشریاتی ادارے نے ہسپانوی فٹبال لیگ سے متعلق یہ اقدام کیا۔

چائنا میڈیا گروپ نے اپنے بیان میں نشریات کی معطلی کی تصدیق کی، تاہم دستیاب معلومات کے مطابق یہ واضح نہیں کیا گیا کہ پابندی کتنی مدت تک جاری رہے گی۔ اسی طرح نشریات کی بحالی کے لیے کسی حتمی تاریخ کا اعلان بھی سامنے نہیں آیا۔

فٹبال شائقین پر کیا اثر پڑے گا؟

چین میں لالیگا کے میچز دیکھنے والے شائقین کو اس فیصلے کے باعث اپنے پسندیدہ کلبوں کے مقابلے براہ راست دیکھنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ اس اقدام سے لیگ کی چینی مارکیٹ میں رسائی اور اس سے وابستہ تشہیری سرگرمیاں بھی متاثر ہونے کا امکان ہے۔

لالیگا دنیا کی نمایاں فٹبال لیگز میں شمار ہوتی ہے، جبکہ ریال میڈرڈ جیسے بڑے کلبوں کی وجہ سے اسے مختلف ممالک میں وسیع پیمانے پر دیکھا جاتا ہے۔ چین جیسی بڑی مارکیٹ میں نشریات کی معطلی تجارتی اعتبار سے بھی اہم سمجھی جا سکتی ہے۔

لالیگا کو ممکنہ مالی نقصان کا خدشہ

رپورٹ میں ماہرین کے حوالے سے اندازہ ظاہر کیا گیا ہے کہ چین میں نشریات کی بندش سے لالیگا کو 2030 تک تقریباً 400 ملین یورو کے ممکنہ نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم اس رقم کو حتمی مالی نقصان قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ اس کا انحصار پابندی کی مدت، نشریاتی معاہدوں اور مستقبل میں پیدا ہونے والی صورت حال پر ہوگا۔

فی الحال نشریات کی معطلی کے دورانیے اور اس کے مالی اثرات کے بارے میں مزید تفصیلات واضح نہیں ہیں۔ آئندہ دنوں میں چینی نشریاتی ادارے، لالیگا اور متعلقہ فریقوں کے مؤقف سے اس معاملے کی مزید صورت حال سامنے آنے کی توقع کی جا سکتی ہے۔

نوٹ: ایمباپے سے منسوب بیان، نشریات کی معطلی اور ممکنہ مالی نقصان سے متعلق تفصیلات کو اشاعت سے قبل اصل خبر یا مستند ذرائع سے ضرور جانچ لیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *