اسٹیل یونٹس کی بجلی پر 5 روپے فی یونٹ سیلز ٹیکس، ایف بی آر نے 3 مزید ادارے فہرست میں شامل کر لیے

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اسٹیل مصنوعات تیار کرنے والے مزید تین اداروں کو بجلی کے استعمال پر فی یونٹ 5 روپے سیلز ٹیکس ادا کرنے والی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد متعلقہ اسٹیل مینوفیکچررز، میلٹرز، ری رولرز اور کمپوزٹ یونٹس پر مقررہ شرح کے مطابق ٹیکس لاگو ہوگا۔

ایف بی آر نے اس سلسلے میں سیلز ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 16 آف 2026 میں ترمیم جاری کی ہے۔ ترمیم کے ذریعے اسٹیل یونٹس کی بجلی کی کھپت پر فی یونٹ 5 روپے سیلز ٹیکس کے اطلاق سے متعلق فہرست میں تین نئے اداروں کا اضافہ کیا گیا ہے۔

کن اسٹیل اداروں کو فہرست میں شامل کیا گیا؟

6 اگست 2026 کو جاری کیے گئے جنرل آرڈر میں تازہ ترمیم کے تحت شامل ہونے والے اداروں میں کے بی انٹرپرائزز، جی ایم بی اسٹیل فرنس اور راجپوت اسٹیل انڈسٹری شامل ہیں۔ ایف بی آر کی دستاویز کے مطابق ان اداروں کے قومی ٹیکس نمبرز (این ٹی این) بالترتیب 8279122، 4220416 اور 0962986 ہیں۔

اس اقدام کے نتیجے میں ان اداروں پر متعلقہ حکم نامے میں مقرر کردہ شرائط کے مطابق بجلی کے استعمال کی بنیاد پر سیلز ٹیکس عائد ہوگا۔ اسٹیل کے شعبے میں ٹیکس کا اطلاق متعلقہ یونٹس کی نوعیت اور مقررہ اہلیت کے معیار کو سامنے رکھ کر کیا جاتا ہے۔

ٹیکس کے اطلاق کے لیے کون سا معیار مقرر ہے؟

ایف بی آر کے مطابق تینوں اداروں کو فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ ایس آر او 1245(1)/2026، مورخہ 31 جولائی 2026 میں درج شرائط کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ ان شرائط میں اسٹیل مصنوعات کی تیاری کے دوران اسکریپ کے استعمال، بجلی کی کھپت اور مخصوص ایچ ایس کوڈز کے تحت اسکریپ کی درآمد سے متعلق معلومات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔

اس طریقہ کار کے تحت متعلقہ اداروں کی اہلیت کا تعین مقررہ معیار کے مطابق کیا جاتا ہے، تاکہ ٹیکس کے اطلاق کے لیے قابلِ اطلاق قواعد اور شرائط پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔

فہرست میں تبدیلی کا اختیار ایف بی آر کے پاس ہوگا

ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ اسٹیل یونٹس کی فہرست مستقل نہیں ہوگی بلکہ ضرورت اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر اس میں وقتاً فوقتاً ردوبدل کیا جا سکتا ہے۔ بورڈ یا متعلقہ کمشنر ان لینڈ ریونیو کی سفارش پر کسی رجسٹرڈ مینوفیکچرر کی اہلیت کا دوبارہ جائزہ لے سکتا ہے۔

متعلقہ حکام کو اختیار حاصل ہوگا کہ مقررہ معیار پر پورا اترنے والے ادارے کو فہرست میں شامل کیا جائے، جبکہ اہلیت برقرار نہ رہنے کی صورت میں کسی ادارے کا نام خارج بھی کیا جا سکتا ہے۔

ایف بی آر کی اس ترمیم سے واضح ہوتا ہے کہ اسٹیل شعبے میں بجلی کے استعمال پر سیلز ٹیکس کے نفاذ کے لیے اداروں کی فہرست کو مقررہ ضابطوں کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔ متعلقہ اسٹیل یونٹس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ٹیکس معاملات اور قابلِ اطلاق شرائط کے مطابق ذمہ داریوں کا جائزہ لیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *