وِنی دی پوہ کی 100ویں سالگرہ پر لائبریری میں ریچھ کی انٹری، شہد کا مرتبان چٹ کر گیا

امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ایک انوکھا واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک ریچھ صبح سویرے لائبریری میں داخل ہوگیا اور وہاں عملے کے لیے رکھی گئی کھانے پینے کی اشیا سے خوب لطف اندوز ہوا۔ حیرت انگیز طور پر یہ واقعہ بچوں کے مشہور افسانوی کردار وِنی دی پوہ کی 100ویں سالگرہ کے موقع پر سامنے آیا، جو شہد کھانے کے شوق کے باعث دنیا بھر میں پہچانا جاتا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ کیلیفورنیا کے علاقے میمتھ لیکس میں پیش آیا، جہاں بدھ کی صبح تقریباً 6 بجے ایک ریچھ مقامی لائبریری کی عمارت میں داخل ہوگیا۔ لائبریری انتظامیہ نے اس غیر معمولی مہمان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی، جس میں اسے عمارت کے اندر گھومتے اور کھانے کی تلاش کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

انتظامیہ کے مطابق لائبریری میں داخل ہونے کے بعد ریچھ کی توجہ عملے کے لیے موجود کھانے پینے کی اشیا پر مرکوز ہوگئی۔ اس نے پینٹ بٹر، بسکٹ اور شہد کا ایک مرتبان کھا لیا۔ یوں لائبریری کا یہ اچانک دورہ کسی کتاب کے مطالعے کے بجائے کھانے کی تلاش اور شہد کی دعوت پر ختم ہوا۔

اس واقعے کی خاص بات اس کا وِنی دی پوہ کی سالگرہ سے اتفاق ہے۔ بچوں کی کہانیوں کا یہ مقبول کردار اپنی شہد سے محبت کے باعث جانا جاتا ہے۔ ایسے میں ایک حقیقی ریچھ کا اسی موقع پر لائبریری پہنچ کر شہد کھانا سوشل میڈیا صارفین کے لیے دلچسپی اور تفریح کا باعث بن گیا۔

لائبریری انتظامیہ کی جانب سے واقعے کی تفصیلات بھی ہلکے پھلکے انداز میں بیان کی گئیں۔ انتظامیہ کے مطابق ریچھ نے کھانے کے بعد کچھ وقت عمارت کے اندر گزارا اور لائبریری کی الماریوں کے قریب گھومتا رہا۔ بعد ازاں وہ خود ہی وہاں سے باہر نکل گیا۔

خوش قسمتی سے اس غیر معمولی دورے کے دوران کسی کتاب یا لائبریری کی الماری کو نقصان نہیں پہنچا۔ البتہ شہد کا مرتبان غائب ہوگیا، جس کا ذکر انتظامیہ نے مزاحیہ انداز میں کیا۔

یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ جنگلی جانور خوراک کی تلاش میں انسانی آبادیوں اور عمارتوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں لوگوں کو احتیاط سے کام لینا چاہیے اور جنگلی حیاتیاتی کے قریب جانے یا اسے خود پکڑنے کی کوشش سے گریز کرنا چاہیے۔

میمتھ لیکس کی لائبریری میں پیش آنے والے اس دلچسپ واقعے نے وِنی دی پوہ کی سالگرہ کو ایک غیر متوقع رنگ دے دیا، جہاں افسانوی کردار کی شہد سے محبت کی یاد تازہ کرنے کے لیے کسی کہانی کی ضرورت نہیں پڑی، بلکہ ایک حقیقی ریچھ ہی لائبریری پہنچ گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *