v
پناہ گزینوں کی رہائش کا منصوبہ، برطانوی گاؤں میں برطانیہ سے علیحدگی کا علامتی ریفرنڈم
لندن: انگلینڈ کے ایک چھوٹے سے گاؤں پیڈنگٹن کے رہائشیوں نے قریبی سابق فوجی اڈے پر پناہ گزینوں کو ٹھہرانے کے حکومتی منصوبے کے خلاف منفرد انداز میں احتجاج کیا ہے۔ مقامی افراد نے ایک غیر پابند اور علامتی ریفرنڈم کا انعقاد کیا، جس میں بھاری اکثریت نے علامتی طور پر برطانیہ سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا۔
تقریباً 350 افراد کی آبادی رکھنے والے اس گاؤں میں ہونے والے ریفرنڈم میں مجموعی طور پر 285 افراد نے برطانیہ سے الگ ہونے کے حق میں اپنی رائے دی، جبکہ 26 افراد نے اس تجویز کی مخالفت کی۔ مقامی سطح پر منعقد ہونے والے اس ووٹ کا مقصد برطانیہ سے حقیقی علیحدگی کا عمل شروع کرنا نہیں بلکہ حکومتی فیصلے کے خلاف مقامی آبادی کے تحفظات سامنے لانا تھا۔
گاؤں کو ’پرنسپلٹی آف پیڈنگٹن‘ قرار دینے کا اعلان
ریفرنڈم کے نتائج سامنے آنے کے بعد پیڈنگٹن پیرش کونسل کے چیئرمین ٹِم میک نیلی نے کہا کہ مقامی لوگوں کے ووٹ نے حکام اور وسیع تر دنیا کے سامنے ایک واضح پیغام پہنچایا ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ علامتی طور پر گاؤں کو اب ’پرنسپلٹی آف پیڈنگٹن‘ کے نام سے پکارا جائے گا۔ مقامی سطح پر یہ اعلان حکومتی پالیسی کے خلاف احتجاج کی ایک علامتی شکل کے طور پر سامنے آیا ہے۔
مقامی رہائشیوں کے مطابق ریفرنڈم کا بنیادی مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ گاؤں کی آبادی اپنے علاقے میں بڑی تعداد میں پناہ گزینوں کو منتقل کرنے کے منصوبے سے متعلق تحفظات رکھتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومتی فیصلے سے مقامی آبادی اور علاقے کے بنیادی ڈھانچے پر ممکنہ اثرات کے بارے میں خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
سابق فوجی اڈے پر پناہ گزینوں کی رہائش کا منصوبہ
یہ علامتی ریفرنڈم گاؤں سے تقریباً 0.8 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک سابق وزارتِ دفاع کے فوجی اڈے سے متعلق حکومتی منصوبے کے پس منظر میں منعقد کیا گیا۔
برطانوی حکومت کی جانب سے اس مقام کو تقریباً 1200 مرد پناہ گزینوں کے لیے رہائشی مرکز میں تبدیل کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ اسی منصوبے پر مقامی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے اور بعض رہائشیوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے میں پناہ گزینوں کی بڑی تعداد کو منتقل کرنے سے قبل مقامی آبادی کے خدشات کو بھی مدنظر رکھا جائے۔
پیڈنگٹن کے رہائشیوں نے اسی معاملے کو بنیاد بناتے ہوئے علامتی ریفرنڈم کا راستہ اختیار کیا۔ ووٹنگ کے ذریعے مقامی لوگوں نے حکومتی منصوبے کے بارے میں اپنے ردعمل کا اظہار کیا اور برطانیہ سے علیحدگی کی علامتی حمایت کی۔
ریفرنڈم قانونی حیثیت نہیں رکھتا
واضح رہے کہ پیڈنگٹن میں ہونے والا یہ ریفرنڈم قانونی طور پر برطانیہ سے علیحدگی کی کوئی بنیاد فراہم نہیں کرتا۔ مقامی سطح پر ہونے والی یہ ووٹنگ قانونی یا آئینی طور پر برطانیہ کی علاقائی حدود تبدیل کرنے کی مجاز نہیں ہے۔
اس کے باوجود مقامی منتظمین نے اسے حکومت تک اپنا پیغام پہنچانے کا ایک ذریعہ قرار دیا ہے۔ ریفرنڈم کے نتائج میں علیحدگی کے حق میں ووٹوں کی تعداد مخالفت کرنے والوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ رہی، جسے منتظمین نے حکومتی پناہ گزین پالیسی پر مقامی ردعمل کے طور پر پیش کیا۔
حکومت کا مؤقف کیا ہے؟
برطانوی حکومت کی جانب سے مجوزہ رہائشی مرکز کے حوالے سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اسے زیادہ سے زیادہ خود کفیل رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ حکام کے مطابق اس انتظام کا مقصد مقامی آبادی پر ممکنہ دباؤ اور اثرات کو کم سے کم رکھنا ہے۔
